خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد ۱۰ 639 خطبه جمعه ۲/اگست ۱۹۹۱ء جو آپ کے پیچھے چلنے والے ہیں۔پس ان معنوں میں درود شریف میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ایک اور رنگ بھی اختیار کر لیتا ہے اور کیونکہ ایک ماضی کے محسن کا ذکر ہے اس لئے نماز کی دعا زمانے میں وسیع تر ہو جاتی ہے اور اس کا تعلق ماضی سے بھی شروع ہو جاتا ہے۔اس تعلق کی بناء پر آگے چل کر آپ کو اپنے والدین کے لئے بھی دعا سکھا دی گئی رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِى (ابراہیم (۴۱) میں پہلے اولاد کا بتایا لیکن سارے زمانے اکٹھے کر دیئے ہیں۔رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوۃ اے خدا مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنادے ومن ذریتی اور میری اولاد کو بھی نماز پر قائم کر۔رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ اے ہمارے رب ! ہماری دعا کو قبول فرما۔رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ اے خدا! مجھے بھی بخش دے اور میرے والدین کو بھی بخش دے تو جس طرح روحانی طور پر آنحضرت ﷺ کے والدین کا ذکر کیا گیا اسی طرح دعا کرنے والے نے اپنے والدین کا بھی ذکر کیا کہ مجھے بھی بخش ، میری اولاد کو بھی بخش اور میرے والدین کو بھی تو حضرت ابراہیم اور آنحضرت ﷺ اور آئندہ نسلوں کا جو تعلق روحانی طور پر ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے اس دعا میں ویسا ہی اپنی اولاد کے ساتھ ، اپنے ساتھ اور اپنے والدین کے ساتھ ایک تعلق دکھا کر اس کی دعا سکھا دی گئی۔پس نماز کو اگر آپ غور سے پڑھیں تو ایک لا متناہی مضمون ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا اور یہ ناممکن ہے کہ ہر نماز میں نماز کا ہر پہلو سے حق ادا ہو اس لئے کہیں نہ کہیں آپ کو کسی جگہ ٹھہر کر نماز کی لذت حاصل کرنی ہوگی اور یہ آپ کے مزاج اور حالات کے مطابق ہے۔ہر لفظ پر اگر آپ ٹھہریں اور اس طرح غور کر کے نماز پڑھیں تو ایک ہی نماز 24 گھنٹے چلتی رہے گی اور یہ ممکن نہیں ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مزاج کو ایسا بنایا ہے کہ وہ بدلتے رہتے ہیں۔کبھی کسی خاص مزاج میں انسان نماز پڑھ رہا ہے اور کبھی کسی خاص مزاج میں نماز پڑھ رہا ہے۔کبھی سورۃ فاتحہ کا پہلا حصہ ہے اس نے ہی دل تھام لیا ہے اور آگے نہیں بڑھنے دیتا، کبھی درمیان میں آکر دل انکتا ہے کبھی آخر پر بھی رکوع میں کبھی سجود میں گویا کہ مختلف حالات میں مختلف انسان اپنے مزاج کے مطابق مختلف رنگ میں نماز سے لذت پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس لئے جو شخص متلاشی ہو گا جب اس کو اپنے مزاج کی چیز کہیں ملے گی توہ وہیں ٹھہر جائے گا اور وہاں وہ زیادہ لطف اٹھائے گا اور اسی طرح کوئی نماز بھی انسان کی ایسی نہیں