خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد ۱۰ 637 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۹۱ء نماز میں جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ اُن لوگوں کے رستوں پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا تو سب سے زیادہ واضح طور پر جو بنی انسان کے ذہن پر چھا جاتا ہے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہیں۔آپ ہی ہیں جو ذہن پر چھا جاتے ہیں۔آپ ہی ہیں جو دل میں سما جاتے ہیں اور حقیقت میں آپ کے نام کے ساتھ باقی سب نبیوں کا نام شامل ہو جاتا ہے پس انعام یافتہ لوگوں میں سب سے اہم ذکر حضرت محمد طفی امی کا ہے اور اسی کا دوسرے لفظوں میں بیان یوں ہوا کہ لا الہ الا الله محمد رسول الله تو نماز نے چونکہ درجہ بدرجہ ہماری تربیت کی اور سورہ فاتحہ کا مضمون ہم پر مزید کھلتا چلا گیا۔اس مضمون کا معراج یہ کلمہ ہے، اشهد ان لا اله الا الله وحده لاشريك له واشهدان محمداً عبده ورسولہ لیکن یہاں یہ کلمہ تجربے کے بعد بیان ہوا ہے نظریاتی طور پر نہیں۔سورۃ فاتحہ نے ہمیں خدا سے تعلقات کے ایسے تجارب سے گزارا ہے اور آنحضرت ﷺ کا مقام ہم پر اس طرح ظاہر فرما دیا کہ تحفہ دیتے وقت سب سے پہلے خدا کی ذات کا تصور ذہن میں آیا اس کے معأبعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا تصور ذہن میں آیا۔پس اسی مضمون نے ہمیں یاد کرایا کہ لا الہ الا الله محمدرسول الله حقیقت میں دو ہی چیزیں ہیں۔اللہ کی ذات اور محمد رسول اللہ۔باقی سب افسانے ہیں۔باقی وہ ہیں جو اُن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور اُن کے ساتھ تعلق کی بناء پر اُن الله کا وجود بنتا ہے۔یہاں تک سورہ فاتحہ کا سفر حاضر اور مستقبل کا سفر تھا۔اس میں حاضر کے طور پر مخاطب کیا جا رہا ہے اور حاضر یا مستقبل کے طور پر دعائیں مانگی جارہی ہیں۔اب نماز آپ کو دوسرے زمانوں کا سفر بھی کرائے گی اور پہلوں کی یادیں بھی آپ کے لئے لے کر آئے گی۔چنانچہ آپ دیکھیں شروع سے آخر تک جب تک ہم کلمہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھتے اور یہ شہادت نہیں دیتے اس وقت تک ہماری ساری دعائیں حاضر اور مستقبل سے تعلق رکھنے والی دعائیں ہیں۔ان معنوں میں آنحضرت ملے پر درود بھیجتے وقت بھی آپ کو ماضی کے وجود کے طور پر مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ ایک حاضر وجود کے طور پر مخاطب کیا گیا ہے اور اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ آپ کا زمانہ زندہ ہے۔آپ ایک ایسے زندہ نبی ہیں جوز مانی لحاظ سے ماضی میں نہیں رہے بلکہ حال کے بھی نبی ہیں اور مستقبل کے بھی نبی ہیں۔اس ابتک کا جو مضمون تھا وہ چونکہ حاضر اور مستقبل کے زمانے سے تعلق رکھتا تھا اس لئے آپ کا ذکر اُن لوگوں