خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 628

خطبات طاہر جلد ۱۰ 628 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء جو ایک ایسی کیفیت ہے جس کو کوئی انسان انگی لگا کر دکھا نہیں سکتا کہ یہ محبت ہے۔نہ اس کا رنگ ہے نہ اس کا روپ ہے نہ اس کا مزا ہے نہ اس کی خوشبو ہے۔ایک کیفیت ہے اس کے سوا اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔پس مادی حالت کو روحانی حالت میں تبدیل کرنے کا نام تحفہ ہے جو کسی اور Transaction میں کسی اور تبادلے میں نہیں ملتا۔پس آپ نے اب تک خدا تعالیٰ سے جو تعلقات قائم کئے اس کے حضور رکوع کیا ، اس کے حضور سجود کئے تو آپ نے قربانیاں تو دیں اور اطاعت بھی کی لیکن کیا یہ ایک مکینیکل سی اطاعت ہے۔ایسی اطاعت ہے جیسے کسی بادشاہ کی عظمت کو قبول کر کے اس کے خوف سے اطاعت کی جاتی ہے۔خوف اطاعت کے لئے لازم ہے لیکن کافی نہیں حقیقی اطاعت محبت کی اطاعت ہوا کرتی ہے اور جب آپ سبـحـــان ربــی،سبحان ربی کہتے ہیں تو یہاں محبت کے تعلق کا اقرار کر لیا گیا ہے ورنہ میرا رب نہیں کہہ سکتے۔دنیا کا رب ہے ٹھیک ہے کائنات کا رب اور جابر ہے اور طاقتور ہے اس کے سامنے جھکنا ضروری ہو گیا عقل نے سمجھا دیا یہ بھی ٹھیک ہے لیکن میرے رب کے مضمون میں تو ایک پیار کا مضمون داخل ہو گیا۔پس اس کے بعد کچھ تحفے اور تحائف کا سلسلہ بھی تو جاری ہونا چاہئے۔چنانچہ انسان رب کو اپنا بنا کر پھر بڑی عاجزی سے اس کے حضور یہ عرض کرتا ہے کہ التَّحِيَاتُ لِلهِ سب تحائف اللہ کے لئے ہیں۔والـصـلـوت والطیبات اور تحائف کیا ہیں؟ بدنی قربانیاں۔والصلوت اور مالی قربانیاں۔یہ ضمون ان دو لفظوں سے بیان تو نہیں ہوتا لیکن مجبور وقت کی رعایت کے مطابق میں نے خلاصہ یہ کہ دیا ہے۔بدنی قربانیاں انسان محبوب کے لئے دیکھیں کتنی کرتا ہے۔اس کی خاطر انسان ہر تکلیف اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔یہاں تک کہ محبت کے ادنی درجے میں بھی یہ کیفیتیں روز ہمارے مشاہدے میں آتی ہیں۔ایک سردی کا موسم ہے، دروازہ کھلا رہ گیا ہے،ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا ہے۔آپ کا کوئی دوست اٹھ کر بند کرنے کے لئے جارہا ہے، آپ جلدی سے اٹھتے ہیں کہ نہیں تم بیٹھو میں کرتا ہوں۔کیا مصیبت ہے، کیوں اس کو نہیں کرنے دیتے۔وہ کام کر رہا ہے۔ٹھنڈی ہوا سے آپ بھی بچ جائیں گے وہ بھی بچ جائے گا، آپ نے کیوں پہل کی۔یہ فطرت کی گہری آواز ہے جو آپ کو بتا رہی ہے کہ جب آپ کسی اعلیٰ مقصد کے لئے بدنی تکلیف اٹھاتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں لذت پاتے ہیں۔دینے کے نتیجہ میں جو لذتیں ہیں وہ مضمون ہمیں تحائف کا مضمون سمجھاتا ہے لینے کے نتیجہ