خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 627 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 627

خطبات طاہر جلد ۱۰ 627 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء ارتقاء کا سلسلہ ہے جو ہمیشہ جاری رہنے والا ہے۔اس کے بعد ہم التحیات کی طرف آتے ہیں۔التحیات میں ہم خدا کے حضور یہ عرض کرتے ہیں کہ التحيات لله والصلوات والطیبات سب تحفے خدا ہی کے لئے ہیں۔والصلوات والطیبات اور سب بدنی عبادتیں بھی خدا ہی کے لئے ہیں اور وہ پاکیزہ چیزیں جو اموال سے یا زندگی کی صلاحیتوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ بھی سب خدا ہی کے لئے اور خدا کے حضور تحفہ ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ تحفہ کیا ہوا کرتا ہے اور کیسا تحفہ ہے اور کیا روز ایک ہی تحفہ آپ بار بار پیش کرتے چلے جائیں گے۔اس مضمون پر جب آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ تحفہ نہ ٹیکس ہے، نہ تجارت ہے بلکہ تھے میں ایک خاص مضمون پایا جاتا ہے جس کو سمجھے بغیر آپ التحیات کا حق ادا نہیں کر سکتے تحفہ میں مضمون یہ پایا جاتا ہے کہ مادے کو روحانی کیفیات میں تبدیل کرنا۔یہ ایک بارٹر Barter System ہے جس کا مادیت Materialism سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور Materialism میں جہاں انسانی مجبوریوں کے تحت دل اعلیٰ لذات کی تمنا کرتا ہے وہاں تحفے کا مضمون ضرور داخل ہو جاتا ہے۔پس ڈائیلٹیکل میٹریل ازم Dialectical Materialias ہو یا اور مٹیرٹیسٹ Materialist فلاسفی ہو جیسا کہ مغربی کیپیٹل ازم Capitalism کی فلاسفی بھی مادیت پسند Materialist ہے ان میں تحفے کا مضمون سجتا نہیں ہے اور ایک بے تعلق سی چیز ہے۔اگر انسانی فطرت کی مجبوری نہ ہوتی تو ان دونوں نظاموں سے تھے کا تصور مٹ جانا چاہئے تھا۔تحفہ یہ ہے کہ Matter جو ایک ٹھوس چیز ہے وہ دے کر اس کے بدلے ایک ایسی کیفیت حاصل کریں جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔جو آپ کے دل کے حالات سے تعلق رکھنے والی کیفیت ہے۔جو آپ کے تصورات کی دنیا سے تعلق رکھنے والی کیفیت ہے اور اگر کامل عقل کے ساتھ ، اگر مارکس Marx کی عقل کے ساتھ آپ اس سودے کا معائنہ کریں گے تو آپ کہیں گے یہ پاگل پن ہے، جنون ہے، حد سے زیادہ بے وقوفی ہے۔کسی دوست سے محبت ہے تو اس کے وجود کو حاصل کرو۔اس سے جو کچھ لے سکتے ہو لو لیکن اس کو کچھ دینے کی کیا ضرورت ہے۔اور ایسے دوست کو جس سے ظاہری طور پر کچھ ملنے کی بھی تو قعات نہ ہوں اس کے اوپر اپنے مال نچھاور کرنا ، اپنی زندگی کی محنتیں قربان کرنا نہایت درجے کی بیوقوفی ہے۔اس کے بدلہ کیا ملتا ہے؟ اس کے بدلے محبت ملتی ہے