خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 626
خطبات طاہر جلد ۱۰ 626 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء اور بالعموم لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ لا الہ الا الله و در حقیقت یہی اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اے خدا تیری ذات ہے اور میری ذات ہے باقی سب کچھ نہیں لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری زندگی کے ذریعہ یہ مضمون ظاہر فرمایا کہ میں بھی نہیں ہوں۔سوائے خدا کے کچھ بھی نہیں ہے۔جب آپ نے اپنی ذات کو مٹادیا تو اس برتن میں پھر خدا ظاہر ہوا ہے اور محمد مصطفی میت ہے کی ہر حرکت میں اور ہر سکون میں اللہ جلوہ گر ہوا۔پس یہ شرک کا مضمون نہیں ہے بلکہ تو حید کامل کا مضمون ہے اور سبحان ربی الاعلیٰ ہمیں اس مضمون کی یاد دلاتا ہے کہ اگر تم اعلیٰ ہو اور تم کہتے ہو کہ میرا رب اعلیٰ ہے تو اپنے اندر سے سفلی صفات دور کرو کیونکہ جو سفلی صفات کا بندہ ہے وہ رب اعلیٰ کا بندہ تو نہیں بن سکتا اس لئے ایک دن کے سجدے کی بات نہیں ، ساری زندگی کی جدو جہد کا معاملہ ہے۔کیا ایک دن میں ، کیا ایک سال میں کیا دس یا بیس یا سو سال میں بھی انسان ہر قسم کی سفلی صفات سے مبرا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس یہ ایک ایسا جاری مضمون ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا لیکن یہ حرکت ہمیشہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف جاری رہے گی اور یہ حرکت تب جاری ہوگی جب آپ کے اندر بجز پیدا ہوگا اور بجز کا ایک نیا مقام آپ کو عطا ہوگا۔پس ہر سجدے میں آپ کو بجز بڑھانا چاہئے۔ہر سجدے کے نتیجہ میں آپ کو اپنی بے بضاعتی اور بے بسی کا مزید ا حساس ہونا چاہئے۔اس احساس اور خلاء کو خدا کا علو بھرتا چلا جائے گا اور آپ کے اندر سے ایک نیا وجود پیدا ہوتا چلا جائے گا۔یہ ہے سجدوں کا مضمون اور اب آپ دیکھیں کہ وہ لوگ جو جہالت سے یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی عبادتیں عجیب بور کرنے والی عبادتیں ہیں۔ایک ہی مضمون ، تکرار کرتے چلے جاؤ ، ہر روز کم سے کم پانچ دفعہ اس کے حضور حاضر ہو، ہر رکعت میں اس کے سامنے وہی دعائیں کرتے چلے جاؤ۔اگر آپ کا تصور سرسری اور ظاہری ہے تو یہ خالی برتن ہے۔ان برتنوں سے آپ یقیناً کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے لیکن برتنوں کو تو بھرا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں برتن عطا کئے ہیں اور بھرنے والے وہ مضامین بخشے ہیں کہ جو ہر دفعہ برتنوں میں نیا مضمون بھرتے ہیں، نیا رنگ بھرتے ہیں ، نیا حسن بھرتے ہیں، نئی لذتیں بھرتے ہیں اور یہ سلسلہ ابد تک جاری رہنے والا سلسلہ ہے اور یہ سلسلہ موت کے بعد بھی جاری رہے گا کیونکہ خدا کی عظمتوں کا کامل تصویر کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔یہ ایک لامتناہی