خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 622
خطبات طاہر جلد ۱۰ 622 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء اس کے بعد پھر وہ حرکت ہے جہاں اللہ اکبر کی بجائے ایک اور مضمون شروع ہوتا ہے وہ سمع الله لمن حمدہ اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد کی۔اگر کہیں استثناء کرنا تھا تو عام انسانی عقل یہ سوچتی ہے کہ یہاں سورہ فاتحہ کا مضمون جوحمد میں کمال درجے کا مضمون ہے جو درجہ کمال کو پہنچا ہوا مضمون ہے۔جہاں وہ مضمون ختم ہوا تھا اس کے بعد آنا چاہئے تھا۔سمع اللہ لمن حمدہ اللہ نے اس کی سن لی جس نے اسکی حمد کی لیکن اس کو بعد میں کیوں ٹال دیا گیا یعنی رکوع کے بعد کیوں رکھا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حمد سننے کے لئے صرف زبان کی حمد کافی نہیں۔زبان کی حمد کو خدا نہیں سنتا جب تک اس حمد کے نتیجہ میں اطاعت کی روح پیدا نہیں ہوتی اور وہ اطاعت اعمال میں نہیں ڈھلتی اس لئے وہ جو خدا کی تعریفوں کے زبانی جمع خرچ کرتے ہیں ان کی حمد گویا خدا نے سنی ان سنی کر دی۔انسان کی زندگی میں روز مرہ بعض ایسے تجارب ہوتے رہتے ہیں۔بعض علاقے ہیں جہاں جھوٹی تعریفیں کرنے کی عادتیں ہیں وہ جب آپ سے ملتے ہیں تو ہمیشہ آپ کی بڑی تعریفیں کرتے ہیں۔بعض دفعہ ایسی تعریفیں کرتے ہیں کہ مبالغے کی حد کر دیتے ہیں لیکن اگر آپ خود جھوٹے نہیں ہیں تو آپ کی طبیعت میں بجائے اس سے کہ ان کے لئے محبت پیدا ہو نفر پیدا ہوتا رہتا ہے۔اگر آپ جھوٹے ہیں تو جھوٹی تعریفوں سے ہمیشہ خوش ہو جایا کرتے ہیں لیکن آپ کا صدق آپ کو بتائے گا کہ کس حد تک آپ بچے ہیں کیونکہ سچا انسان کبھی جھوٹی تعریف سے راضی نہیں ہوسکتا اور سنتا ہی نہیں۔سنی ان سنی کر دیتا ہے بلکہ نفرت کرتا ہے اور گھبراتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ جلد یہ ملاقات ختم ہو۔پس ایسی حمد جو دل سے نہ اٹھے اور جو اپنے اندر گہری سچائی نہ رکھتی ہو وہ خدا نہیں سنتا لیکن جب حمد کے نتیجہ میں اطاعت شروع ہوگئی ، جب انسان نے قربانیاں پیش کرنی شروع کر دیں جب اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیں تو حمد سننے کے لائق ہے اور اسی مضمون کو قرآن کریم نے دوسری جگہ یوں بیان فرمایا کہ کلمہ طیبہ کو، پاک کلمے کو نیک اعمال بلند کرتے ہیں۔جب تک نیک اعمال اچھے کلمات کے ساتھ شامل نہ ہوں اس وقت تک ان کو رفعت پرواز عطا نہیں کی جاتی اور وہ اوپر پہنچتے ہی نہیں۔پس وہ ایسی آوازیں ہیں جو عرش سے ورے ورے گر جاتی ہیں اور اپنے مقصود اور مقام تک نہیں پہنچتیں۔پس رکوع نے ہمیں یہ بھی سمجھا دیا کہ اگر تم ایسی حمد چاہتے ہو جسے خدا سنے تو پھر اطاعت کرو اور خدا کے حضور جھک جاؤ۔ایسی صورت میں تمہیں یہ آواز سنائی دے گی کہ اللہ اس حمد