خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 621

خطبات طاہر جلد ۱۰ 621 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء حالت ہے اس میں ذاتی تعلق کا پیدا ہونا ابھی انتظار چاہتا ہے اس انتظار کی حالت کو خدا نے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (البقرہ:۵) کے ذریعہ ختم فرما دیا اور ایک ذاتی تعلق قائم فرما دیا اس رب سے جو سب کا سانجھا رب ہے لیکن یہاں بھی اجتماعی رنگ ہے۔ہم اے خدا! تیری عبادت کرتے ہیں یا تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں یا تیری عبادت کریں گے اور تیری ہی عبادت کریں گے لیکن مدد بھی تجھ سے چاہیں گے لیکن یہاں ابھی تک ایسا تعلق قائم نہیں ہوا کہ آپ یہ کہہ سکیں کہ میرا رب ہے۔یہ تعلق ایک ادنیٰ قدم تعلق کا ہے اور یہ تعلق اطاعت کے بغیر قائم نہیں ہوا کرتا۔زبانی تعریف کے ذریعہ کوئی چیز آپ کی نہیں ہو سکتی۔جب آپ عمل کی شکل میں اس کا بننے کی کوشش کرتے ہیں تب وہ آپ کی ہو جاتی ہے۔تو رکوع نے بتایا کہ وہ رب جو آپ سب کا ہے وہ آپ کا بھی تو ہونا چاہئے یعنی آپ کی ذات کا بھی تو ہونا چاہئے اور اگر آپ واقعی سچے دل سے اس کی تعریف کر رہے ہیں اور اسی سے دعائیں کر رہے ہیں تو اس کو اپنانے کے لئے آپ کو خود ذاتی طور پر اس کے سامنے سر جھکانا ہوگا اور اطاعت کرنی ہوگی۔جب آپ اطاعت کے ذریعہ اس کے ہوں گے تب آپ کو یہ حق دیا جائے گا کہ یہ اعلان کریں۔سبحان ربی العظیم - سبحان ربی العظیم پاک ہے میرا رب ، پاک ہے میرا رب۔پاک ہے میرا رب اور بڑی عظمتوں والا ہے۔بڑی عظمتوں والا ہے۔بڑی عظمتوں والا ہے۔پاک کن معنوں میں ہے آپ کا رب پاک کن معنوں میں ہے۔عظمتوں والا کن معنوں میں ہے اور آپ کا رب کن معنوں میں عظمتوں والا ہے۔اس میں آپ کے ساتھ نسبتیں قائم ہو گئیں اور ایک اور مضمون نفس کے تجزیہ اور تزکیہ کا شروع ہو گیا۔آپ کن باتوں سے پاک ہیں، کن باتوں سے پاک ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر بعض باتوں میں آپ پاک ہیں یعنی اپنی توفیق کے مطابق اور بعض باتوں میں پاک ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو حق ہے کہ کہیں سبحان ربی میرا رب پاک ہے تا کہ یہ کہہ کر خدا سے مدد مانگیں۔اگر آپ میں عظمت کے نشان پائے جاتے ہیں یا کچی عظمت کے خواہاں ہیں اور اس کی طرف حرکت کر رہے ہیں تو آپ کو یہ حق ہے کہ کہیں سبحان ربی العظیم ہاں میرا رب عظیم ہے۔اس نے مجھے عظمتیں عطا کی ہیں۔وہ مجھے عظمتوں کی طرف لیکر روانہ ہوا ہے۔پس دیکھیں کہ مضمون کو ذرا سا بدل کر دیکھنے سے زاویہ بدلنے سے نئے مضامین کے کیسے جہان آپ کے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔