خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد ۱۰ 620 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء وَارْكَعُوا مَعَ الرکعِینَ (البقرہ:۲۴) یہ مطلب نہیں ہے کہ جہاں تم لوگوں کو رکوع کرتے دیکھو تم بھی ساتھ اسی طرح بدن جھکا کر رکوع کر لو۔مراد یہ ہے کہ جہاں بھی تم خدا کے بندوں کو اطاعت کرتے ہوئے دیکھوتم بھی اسی طرح اطاعت میں ساتھ شامل ہو جایا کرو کیونکہ خدا کی اطاعت کا مضمون زندگی کے ہر شعبہ پر ، ہر حال پر حاوی ہے۔اس پہلو سے جب آپ سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظيم سبحان ربی العظیم کہتے ہیں تو عظمتوں کا مضمون بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔عظمتیں ہر صورت حال پر مختلف رنگ میں اطلاق پاتی ہیں۔پہاڑ کی عظمت اور ہے، ایک جانور کی عظمت اور ہے۔ایک انسان کی عظمت اور ہے اور خدائے ذو الـمـجـد والعلیٰ کی عظمت اور ہے۔وہ خدا جس کی عظمت کو سورہ فاتحہ نے ہمیں سمجھایا اس کی عظمت کو قریب سے دیکھنے کے نتیجہ میں روح بے اختیار رکوع میں جاتی ہے اور جسم کا رکوع اس کے تابع ہوتا ہے، اس سے پہل نہیں کرتا۔پس جب آپ قیام کے وقت کے مضامین کو خوب اچھی طرح سمجھ کر پڑھ لیں تو اس وقت آپ کے دل پر ایک ایسی کیفیت طاری ہونی چاہئے جس کے نتیجہ میں روح جھکتی ہو اور بدن بھی ساتھ جھکنے کے لئے بے اختیار ہو جائے۔ایسی حالت کا نام رکوع ہے اور اس کے بعد جب آپ عظمت کے مضمون پر رکوع کی حالت میں غور کریں گے تو تین دفعہ کا یہ اعتراف کہ سبحان ربی العظیم آپ کو بہت ہی مختصر سا دکھائی دے گا اس لئے ساری زندگی کے رکوعوں میں آپ کے لئے مختلف سوچوں کا انتظام فرما دیا گیا ہے۔لفظ ” العظیم‘اور سبحان ربی العظیم میں ایک ایسا خوبصورت مضمون ہے جو ختم نہ ہونے والا ہے اور ہر انسان اپنی کیفیت کے مطابق، اپنے رب سے اس وقت کے حالات کے مطابق اس کی عظمتوں کے مختلف تصورات سے سبحان ربی العظیم میں نئے رنگ بھر سکتا ہے علاوہ ازیں یہ قابل غور بات ہے کہ سورۃ فاتحہ نے تو ایک خدا سے غائبانہ تعارف کروایا اور اس خدا کو آپ نے نصف سورۃ کے بعد مخاطب کرنا شروع کیا لیکن وہ تخاطب جمع کی حالت میں ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرہ:۲) تمام کائنات پر حاوی خدا ہے۔کوئی ایک وجود بھی اس کی ربوبیت سے باہر نہیں ہے اور اس کی حمد کا ترانہ خواہ انسان باشعور ہو،خواہ زندگی کی دوسری شکلیں ہوں، خواہ جمادات ہوں وہ سارے اپنے اپنے رنگ میں ہمیشہ گاتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ ایک عام