خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد ۱۰ 612 خطبہ جمعہ ۱۹ار جولائی ۱۹۹۱ء عذاب کو ہم سے ٹال دے، ہم ایمان لے آئیں گے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ جب تک یہ واقعہ نہ ہو اسلام کی طرف بنی نوع انسان کا رجوع نہیں ہوگا کیونکہ یہ دھوئیں کا عذاب بنی نوع انسان پر اس وقت آئے گا جبکہ بنی نوع انسان اکثریت کے لحاظ سے شریر ہونگے ورنہ تو خدا کی طرف سے اتنا خوفناک عذاب نیک بندوں پر نہیں آیا کرتا۔اگر وہ ایمان لے آتے تو اس عذاب کے آنے کا سوال ہی باقی نہ رہتا۔پس یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کے قبول عام کے وقت سے پہلے لازماً نیوکلیئر بمبز Nuclear Bombs دنیا میں چلیں گے اور دنیا کی ترقی یافتہ قو میں جو چاہیں کر لیں اس قسم کی نیوکلیئر جنگ سے ہمیشہ کے لئے بچ نہیں سکیں گی۔بالآخر ان کی غلطیاں ضرور ان کو نیوکلیئر وار فیئر Warfare پر مجبور کر دیں گی اور اس کے نتیجہ میں دو باتیں پیدا ہونگی۔بہت ہی خوفناک زہر یلے دھوئیں کے بادل دنیا پر پھیلیں گے اور انسانوں کو شدید عذاب میں اور دردناک عذاب میں مبتلا کریں گے۔دوسری بات یہ کہ اس کے نتیجہ میں وہ ایمان لانے کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔اس سے پہلے بھی ہیروشیما اور ناگا ساکی میں دو بم پھٹ چکے ہیں لیکن ان کے نتیجہ میں اِنَّا مُؤْمِنُونَ کی آواز وہاں بلند نہیں ہوئی تھی اور نہ دنیا نے اسلام کی طرف توجہ کی۔پس اس لئے میں قطعی طور پر یقین رکھتا ہوں کہ اس آیت کا اور اس دعا کا تعلق آئندہ زمانے سے ہے اور جب تک بنی نوع انسان کو اس قسم کی خوفناک سزا کے ذریعہ جنجھوڑا نہیں جائے گا اس وقت تک وہ اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔فرمایا: أَلَّى لَهُمُ الذِّكْرَى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ (الدخان : ۱۴) اب وہ نصیحت کیسے مانگ رہے ہیں۔کس منہ سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نصیحت پکڑیں گے وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ ان میں ایک کھلا کھلا رسول ظاہر ہو چکا ہے۔پس یہ اسی زمانے کے کسی رسول کی بات ہو رہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں ایک ایسے رسول کا ذکر ہے جس نے ان کو تنبیہ کرنی تھی اور تنبیہ کر دی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا گزشتہ ۱۴۰۰ سال میں ایک بھی انسان ایسا نہیں گزرا جس نے ایٹمی ال ہلاکت سے دنیا کو متنبہ کیا ہو۔پس اس آیت کا تعلق احمدیت سے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے ہے۔آپ تمام بزرگوں کی تاریخ کا مطالعہ کر لیں۔۱۴۰۰ سال میں ایک بھی بزرگ ایسا نہیں ملے گا جس نے ایٹمی ہلاکت کا تصور خدا سے علم پا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہو۔یا