خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 611 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 611

خطبات طاہر جلد ۱۰ 611 خطبہ جمعہ ۹ار جولائی ۱۹۹۱ء کا مہلک دھواں دنیا کے بڑے خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔وہ ایسا مہلک دھواں ہوگا کہ جس کے نتیجہ میں نہ انسان زندہ رہ سکے گا نہ مر سکے گا۔انتہائی مہلک حالت ہوگی۔انتہائی پر عذاب حالت ہوگی۔فرمایا ایسی حالت میں کیا ہوگا۔فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءِ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ يَخْشَى النَّاسَ (الدخان :۱۲) اے محمد ﷺ ! آج جو یہ تیری باتوں کا انکار کر رہے ہیں اور تیری پیشگوئیوں سے تمسخر کر رہے ہیں انتظار کرو اس دن کا ، مراد یہ ہے کہ تو اور تیری امت انتظار کرے۔یہاں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے آپ کے بعد آنے والے آخری زمانے تک پیدا ہونے والے مسلمانوں کو مخاطب فرما دیا گیا ہے۔اہل اسلام کو مخاطب کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ بعض ایسی پیشگوئیاں ہیں جو لازماً پوری ہونے والی ہیں۔ان میں سے ایک دھوئیں کی پیشگوئی ہے اب آپ سوچئے کہ آج سے ۱۴۰۰ برس پہلے دھوئیں کے عذاب کا کوئی تصور ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔کسی انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ کوئی ایسا دھواں ہو گا جوز مین کے بڑے بڑے خطوں کو ڈھانپ لے گا اور اس کے نیچے نہایت دردناک عذاب ہے۔یہ ایٹمی دور کی بات ہے اور ایٹمی دور سے پہلے کے انسان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی۔پس اس دعا میں ہمارے لئے قرآن کریم کی صداقت کا بھی ایک عظیم الشان نشان ہے۔فرمایا ! اے محمد ! ہم تجھ سے یہ کہتے ہیں کہ تو انتظار کر، ایک ایسا زمانہ لازماً آئے گا جبکہ ایک بہت بڑا دھواں دنیا کے عظیم خطوں کو ڈھانپ لے گا۔یخْشَی الناس یہاں خطوں کی بجائے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ دراصل وہ دھواں ظالم انسانوں کو سزا دینے کے لئے ان پر مسلط کیا جائے گا۔هَذَا عَذَاب الیم یہ تو بہت ہی درد ناک عذاب ہے۔اب بتائیے ! اس زمانے کا انسان تو در کنار ، آج سے ۱۰۰ سال پہلے کا انسان بھی کیا یہ تصور کر سکتا تھا کہ کوئی ایسا دھواں دنیا پر پھیلے گا جس کے نیچے بہت ہی درد ناک عذاب ہے۔سوائے ایٹمی دھوئیں کے اور کوئی دلیل اس دھوئیں کے تصور کی موجود ہی نہیں۔جس کو یہ علم ہو کہ ایک ایٹم بم کے نتیجہ میں بہت خوفناک قسم کے بادل اٹھیں گے اور وہ دنیا کو ڈھانکیں گے اور جہاں جائیں گے وہاں عذاب پھیلاتے چلے جائیں گے جب تک کسی کو یہ علم نہ ہو یہ بات نہیں کہہ سکتا۔پس یقینا یہ خدا کا کلام ہے۔عالم الغیب خدا کا کلام ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا کلام نہیں۔آگے فرمایا کہ وہ اس وقت کیا دعا کریں گے۔رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ وہ یہ کہیں گے کہ اے خدا! اس