خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 610
خطبات طاہر جلد ۱۰ 610 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۹۱ء ایک دعا فصلت حم السجدہ آیت ۳۰ میں درج ہے۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوْارَ بَّنَا آرِنَا الذَيْنِ أَضَلَّنَا مِنَ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ الْأَسْفَلِينَ کہ جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ دعا کریں گے کہ رَبَّنَا آرِنَا الذَيْنِ أَضَلَّنَا اے خدا! وہ لوگ ہمیں دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ان کو ہمارے سامنے لا خواہ وہ بڑے لوگوں میں سے تھے خواہ وہ چھوٹے لوگوں میں سے تھے۔جن تھے یا انس تھے نَجْعَلُهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا آج ہم ان کو اپنے پاؤں کے نیچے کچلیں گے لِيَكُونَا مِنَ الْأَسْفَلين تا کہ وہ سب سے نیچے اور ذلیل لوگ دکھائی دیں۔مراد یہ ہے کہ اس دنیا میں جب گندے اور ظالم بڑے لوگوں کی پیروی کی جاتی ہے تو قیامت کے دن کا عذاب انسان پر یہ کھول دے گا کہ دراصل وہ ذلیل ترین لوگ تھے جن کے پیچھے تم چلا کرتے تھے اور ذلیل ترین لوگوں کے پیچھے چلنے کے نتیجہ میں تمہیں یہ عذاب ملا ہے۔پس صرف انتقامی کارروائی کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک طبعی تمنا کے طور پر وہ خدا سے یہ التجا کریں گے کہ اے خدا! تو نے جو ایسے ظالموں کو ضرور ہم سے بڑھ کر عذاب دینا ہے تو ان کو ہمارے سامنے پیش کر ، ہمارے پاؤں تلے وہ کچلے جائیں تا کہ ان کو پتا چلے کہ وہ اس دنیا میں کس قسم کے بڑے لوگ تھے اور حقیقت میں وہ سب سے رسوا اور سب سے ذلیل انسان تھے مگر ان کی لذتیں بھی انتظامی لذتیں ہی ہیں اور جہنم میں کوئی حقیقی خوشی اور تسکین کی بات ان کے لئے نہیں ہوگی۔پھر سورۃ الدخان آیت ۹ تا ۷ ا میں یہ ایک دعا بتائی گئی ہے: رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُوْنَ أَثْى لَهُمُ الذِّكْرُى وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوْا مُعَلَّم مجْنُونٌ (الدخان : ۱۳ تا ۱۵) یہ دعا اک ایسے زمانے سے تعلق رکھتی ہے جو ابھی آنے والا ہے۔جو گزرا ہوا زمانہ نہیں ہے بلکہ سورۂ دخان سے یہ دعالی گئی ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جبکہ ایک خاص قسم