خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 609
خطبات طاہر جلد ۱۰ 609 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۹۱ء یہ کہتے ہیں قیامت کے دن جو ہو گا دیکھا جائے گا۔اپنے مومنوں کو دے دینا جو کچھ دینا ہے ہمیں تو اس دنیا میں جو کچھ میسر آتا ہے وہ دے دے تا کہ ہمارا حساب یہیں صاف ہو جائے۔قیامت میں ہمیں کچھ نہیں چاہئے یہ دعا وہی کر سکتا ہے جس کو قیامت کا یقین نہ ہو۔جس کو اعتماد ہی نہ ہو کہ مرنے کے بعد کی کوئی زندگی ہے اور کوئی جزا سزا ہے اس لئے یہ دعا ان معنوں میں تمسخر کا رنگ رکھتی ہے اور یہی دعا بغاوت کا رنگ بھی اختیار کر جاتی ہے۔جبکہ بعض ظالم لوگ خدا سے یا خدا والوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کی تم باتیں کرتے ہو کہ مرنے کے بعد آئے گا مرنے کے بعد وہ عذاب کس نے دیکھنا ہے۔اب لاؤ وہ عذاب اگر اب کچھ دکھا سکتے ہوتو لا کر دکھا دو۔چنانچہ ابوجہل کی جس دعا کا اس سے پہلے ذکر گزرا ہے وہ بھی اسی مضمون کی دعا تھی تو یہ دونوں طریق نہایت ہی خطرناک اور مہلک ہیں انسان پر قرآن کریم کی دعاؤں کے مطالعہ سے ایک بات خوب کھل جاتی ہے۔کہ جہاں الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعائیں ہیں وہاں ان کی دعاؤں کی عاجزی ان کی دعاؤں کی قبولیت میں مددگار ثابت نہیں ہوتی بلکہ بڑی عاجزی سے بھی جب وہ دعائیں کرتے ہیں تب بھی وہ نامراد دعائیں ہوتی ہیں، نا مقبول دعا ئیں ہوتی ہیں۔تعجب کی بات یہ ہے کہ جب وہ دعا میں باغیانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور چینج کرتے ہیں تو اس وقت ان کی وہ دعا قبول ہو جاتی ہے مومنوں کے ساتھ تو برعکس اصول ہے مومن جتنا عاجزی اختیار کرتا ہے اتنی ہی اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور جہاں اس کے ذہن میں کوئی باغیانہ تصور سائے کی طرح بھی آئے وہاں اس کی دعا رد ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیکھیں سب سے خوفناک باغیانہ دعا شیطان نے کی تھی اور خدا نے ساری کی ساری دعا قبول کر لی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں خدا کی عظمت اور جبروت کو چیلنج ہے اور چیلنج اگر قبول نہ ہو تو اس میں سبکی ہوتی ہے اور انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ ہم نے دھمکی بھی دی۔ہم نے چیلنج بھی دیا اور اس کے باوجود بھی قبول نہیں ہوئی کیونکہ خدا گویا نعوذ باللہ بھاگ گیا۔پس ظالم کی دعا جب بغاوت کا رنگ اختیار کرتی ہے تو وہ مقبول ہو جایا کرتی ہے۔ایسے بہت سے چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب دیئے گئے تو وہ قبول ہوئے اور عاجزانہ دعا ئیں ان کی نامقبول ہوتی ہیں کیونکہ وہ بجز کا جو وقت ہے وہ کھو چکے ہوتے ہیں تو مومن چونکہ عاجزی اختیار کرتا ہے اور یہی اس کو زیب دیتی ہے اس لئے عجز کے ساتھ مومن کی دعاؤں کی قبولیت کا گہرا تعلق ہے۔