خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد ۱۰ 602 خطبہ جمعہ ۹ار جولائی ۱۹۹۱ء کرتے چلے جاتے ہیں اور روزانہ آپ کو خدا تعالیٰ یہ اطلاع دیتا ہے کہ میں نے تیری یہ دعا نا مقبول کر دی ہے، رد کر دی ہے اور پھر آپ رات کو اٹھتے اور پھر وہی دعا کرتے ہیں اور پھر اٹھتے ہیں اور پھر وہی دعا کرتے ہیں اور آپ کا اصرار ختم ہونے میں ہی نہیں آتا جبکہ ہر دفعہ خدا آپ کو مطلع فرما دیتا ہے کہ میں نے تیری دعا رد کر دی ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ دیکھو میں ایک بھکاری اور فقیر انسان ہوں فقیروں کا کام مانگنا ہے اور خدا مالک ہے اس کا کام ماننا یا نہ ماننا ہے وہ اپنا کام کرتا چلا جارہا ہے میں اپنا کام کرتا رہوں گا۔یہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اس بزرگ کو الہام ہوا کہ جاہم نے تیری تمام عمر کی دعائیں قبول کر لی ہیں۔تو بعض دعاؤں کا وفا سے تعلق ہوتا ہے بندے کا کام نہیں ہے کہ خدا سے کلام کا تعلق توڑلے یہ سب سے بڑی گستاخی ہے اگر ماں باپ بھی اپنے بچے کی کوئی بات نہ مانیں اور وہ روٹھ کر مانگنا چھوڑ دیں تو ماں باپ کو سخت تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اسے ذاتی طور پر اپنی بے ادبی اور گستاخی سمجھتے ہیں ماں باپ کے مقابل پر بچے کا جو رشتہ ہے وہ ایک معمولی رشتہ ہے لیکن خدا کے مقابل پر بندے کا رشتہ تو بہت ہی عاجزی کا رشتہ ہے اس لئے ان باتوں کو سمجھیں اور خدا سے کلام کا تعلق تورنے کا تصور بھی دل میں نہیں آنا چاہئے۔پس وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں یا نمازوں میں لطف نہیں آتا ان کو یہی نصیحت ہے کہ وہ بندگی کرتے چلے جائیں یقیناً خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو کسی نہ کسی رنگ میں قبول فرمائے گا اور ہرگز بعید نہیں کہ ایک وفا شعار بندے کو آخر وہی جواب ملے جو اس بزرگ کو ملا تھا کہ ہم نے تیری ساری عمر کی دعائیں قبول کرلیں۔ایک دعا سورہ قصص آیت ۴۹ میں بیان ہوئی ہے فرمایا: فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسى أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ قَالُوا سِحْرُنِ تَظْهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلِّ كَفِرُونَ اس میں بدنصیب منکر قوموں کی نفسیات بیان ہوئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب ان کے پاس حق آ گیا جو ہماری طرف سے تھا تو انہوں نے کہا کیوں نہ اس شخص کو وہ کچھ دیا گیا جو کچھ موسیٰ کو دیا گیا یعنی انبیاء کے انکار کرنے والے ہمیشہ اس قسم کے بہانے تراشتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبے کرتے ہیں کہ جو اس سے پہلے دیا گیا جس رنگ میں اس سے تو نے کلام کیا ، جس رنگ میں اس سے