خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 2

خطبات طاہر جلد ۱۰ 2 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء گزارہ کیا اور خدمت دین میں بہت جلد جلد آگے بڑھنے لگے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے کے اندر وقف جدید کا سالانہ بیعتوں کا ریکارڈ باقی اس قسم کی دوسری تمام انجمنوں کے اداروں یا تحریکات سے آگے نکل گیا اور لمبے عرصے تک وقف جدید بیعتیں کروانے کے میدان میں اول رہی۔اسی طرح وقف جدید کو ایک بہت ہی عظیم الشان خدمت کا تھر کے علاقے میں موقعہ ملا۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہند و بکثرت آباد ہیں اور یہی ایک وہ علاقہ ہے جہاں آج بھی مسلمانوں کے مقابل پر ہندوؤں کی اکثریت ہے لیکن اکثر ہندوا چھوت کہلانے والے ہیں یعنی ہندوؤں کی طبقاتی تقسیم کے لحاظ سے سب سے نچلے درجے سے تعلق رکھتے ہیں۔وقف جدید کا جس سال آغاز ہوا ہے اسی دوران عیسائیوں نے جو امریکہ سے غیر معمولی طور پر مدد حاصل کر رہے تھے گھر کے علاقے پر وہاں کے باشندوں کو عیسائی بنانے کے لئے یلغار کی اور اس لحاظ سے یہ الہی تحریک خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ اگر وقف جدید کی تحریک جاری نہ ہوئی ہوتی اور جماعت احمدیہ کو شھر کے علاقے میں اس طرح خدمت کا موقعہ نہ ملتا تو بعید نہیں کہ وہاں بہت تیزی کے ساتھ عیسائیت پھیل جاتی لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بر وقت تحریک کے نتیجے میں جب ہم نے معلمین تقسیم کرنے کے لئے مختلف علاقوں کے جائزے لئے تو معلوم ہوا کہ تھر کے علاقے میں بڑی شدید ضرورت ہے۔ایک تو ویسے بھی ہندوؤں میں تبلیغ کی خاطر وہی علاقہ موزوں تھا، دوسرے علم ہوا کہ عیسائیوں نے بہت بڑی یلغار کر رکھی ہے اور امریکن غذائی امداد کا ایک بہت بڑا حصہ اس علاقے کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔چنانچہ جب میں نے وہاں دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا تو عموماً یہی مشورہ دیا گیا کہ جماعت کی طرف سے بھی کوئی امدادی پروگرام جاری ہونا چاہئے ورنہ یہاں کامیابی مشکل ہے۔اس پر میں نے اس تجویز کو نہ صرف سختی سے رڈ کیا بلکہ آئندہ بھی ہمیشہ اس تجویز کی سوچ کے دروازے بھی سب پر بند کر دیئے اور میرا استدلال یہ تھا کہ جہاں تک دولت کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے کا تعلق ہے نہ ہم اُس میدان کے کھلاڑی ہیں نہ اس بات کے قائل ہیں، نہ ہمیں توفیق ہے کہ ہم دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کا اس میدان میں مقابلہ کر سکیں۔اگر ہم ایک روپیہ خرچ کریں تو امریکہ دس لاکھ روپیہ خرچ کر سکتا ہے اور اگر روپے کی لالچ میں یا لالچ نہ بھی کہیں، ضرورت مند کی مدد پوری کر کے اُسے اپنی طرف متوجہ کرنا ہے تو ضرورت بے انتہاء ہے اُسے آپ پورا