خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 595
خطبات طاہر جلد ۱۰ 595 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء عمومی مضمون ہے جو بیان ہوا ہے۔اب میں اس مضمون کو سر دست یہاں چھوڑتا ہوں کیونکہ مختصراً ایک اور بات بھی آپ کے سامنے رکھنی ہے کہ ہمارا مالی سال ۳۰ / جون کو اختتام کو پہنچا ہے۔میں چونکہ دورے پر تھا اس لئے میں اس کے متعلق پہلے کوئی گفتگو نہیں کر سکا۔واپس آنے کے بعد مجھے بعض اطلاعیں ملی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جن ممالک سے بھی اطلاع ملی ہے ان میں یہ خوشخبری ہے کہ بجٹ سے توقع سے زیادہ آمد ہو چکی ہے۔پاکستان میں بھی انتہائی مشکل حالات کے باوجود مسلسل یہ مضمون ہمیشہ دہرایا جاتا ہے کہ سال ختم ہونے سے پہلے ناظر صاحب بیت المال ڈرانے کے خط لکھتے ہیں اور ایسی اطلاعیں بھیجتے ہیں کہ گویا اس دفعہ تو ہم بالکل رہ جائیں گے اور معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس طرح آمد پوری ہوگی لیکن میرا خیال ہے وہ دعا کی خاطر جان کے ڈراتے ہیں تا کہ دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو۔اب میں سفر میں تھا تو مجھے ان کا خط ملا اور بہت سخت ڈرانے والا خط تھا کہ اس دفعہ تو حالت حد سے خراب ہو چکی ہے اور کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ہم اپنا بجٹ اس دفعہ پورا کر سکیں گے لیکن واپس آیا ہوں تو چٹھی بالکل برعکس مضمون کی موجود ہے یعنی اللہ کے فضل سے دو ہفتے کے اندراندر ایسی کایا پلٹی ہے کہ جتنی متوقع آمد تھی اس سے بھی کئی لاکھ اوپر آمد ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ باقی دنیا میں بھی یہی سلوک چلتا ہے جہاں کمزوری ہے وہاں انتظامیہ کی کمزوری ہے اور انتظامیہ کی کمزوریاں دوطرح سے ہیں ایک تو یہ کہ ان کو سارا سال بیدار مغزی سے احمدیوں تک پہنچنے ، ان کو ان کے فرائض یاد دلانے کی توفیق نہیں ملتی۔بعض سیکرٹریان مال سست ہو جاتے ہیں کئی کئی مہینے کے بعد ، بعض دفعہ سال کے بعد بتاتے ہیں کہ تمہارا سب کچھ بقایا پڑا ہے اور ہر قسم کے انسان دنیا میں ہیں۔اخلاص کے باوجود بعض طبعا کمزور ہوتے ہیں۔بعض طبعا ست ہوتے ہیں ان تک اگر آپ وقت کے اوپر پہنچ جائیں تو جو کچھ ہے حاضر کر دیں گے لیکن جب وقت پر نہ پہنچیں تو دنیا کی دوسری ضروریات پہلے آجاتی ہیں پھر ان پر خرچ کر دیتے ہیں۔آخر پر ان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔جہاں بھی انتظامیہ مستعد ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت بھی وہاں اسی طرح مستعدی کے ردعمل دکھاتی ہے اور جہاں انتظامیہ دعا کرنے والی ہے وہاں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حیرت انگیز نشان ظاہر ہوتے ہیں۔دیکھتے دیکھتے مالی امور کی کایا پلٹ جاتی ہے۔تو اس لئے میں اعلان کرتا ہوں اور اب جہاں جہاں بھی خطبے کی یہ آواز