خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد ۱۰ سے کہیں لے جاتی ہیں۔576 خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۹۱ء معلوم ہوتا ہے جب فرعون ڈوبنے لگا ہے جب اس نے دعا کی ہے تو اس کے حوالی موالی اس کے ساتھی زور مارتے رہے ہیں کہ کسی طرح اس کو بچالیں اور بالآخر اس کو دنیا کی زندگی کی نجات مل گئی تھی۔دعا کے مضمون کے لحاظ سے آخری نتیجہ یہ نکالنا چاہئے کہ آخری سانس کی دعائیں قبول نہیں ہوا کرتیں اس لئے تو بہ کے لئے وہ وقت ہوا کرتا ہے جب تو بہ کے بعد بھی ایک زندگی گزارنی ہو۔اگر تو بہ ایسے وقت میں ہو جبکہ انسان اپنے آخری وقت کو پہنچ چکا ہو تو ایسی تو بہ قبول نہیں ہوا کرتی اس لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی طرح اس وقت تو بہ کی توفیق نہ بخشے جبکہ تو بہ کے دروازے بند ہو چکے ہوں بلکہ زندگی میں تو بہ کی توفیق بخشے اور تو بہ کی دعا کرتے وقت ان سب بدنصیبوں کے انجام کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ یہ دعا کیا کریں کہ اے خدا ہم اس وقت مخلص ہیں لیکن تو نے ہمیں بتایا ہے کہ بعض الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم بھی تو مخلص تھے۔تو نے ہمیں بتایا ہے کہ بعض گمراہ بھی تو دعا کرتے وقت مخلص تھے اس لئے ہم نہیں جانتے کہ ہمارا کیا انجام ہوگا اس لئے ہم تیرے حضور جھکتے ہوئے عاجزانہ یہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے اس اخلاص کو عارضی نہ بنادینا۔ان بدنصیبوں میں ہمیں شامل نہ کرنا جن کے وقتی اخلاص کے پیش نظر تو نے ان کی التجاؤں کو قبول فرمالیا لیکن جب مہلت دی تو وہ دوبارہ ویسے ہی کاموں میں پڑ گئے۔اس لئے ہمیں ایسی بچی تو بہ کی توفیق عطا فرما جو تیرے حضور دائمی ٹھہرے اور جب بھی ہم سے دوبارہ غلطی سرزد ہو مجرموں کی طرح ہم سے صرف نظر نہ کرنا بلکہ اس طرح صرف نظر فرمانا جس طرح اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے کوئی صرف نظر کیا کرتا ہے۔پس امید ہے کہ ہم جب اس مضمون کو ختم کریں گے تو ہماری أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعاؤں میں ایک نئی جلا پیدا ہو جائے گی۔ہمیں معلوم ہو چکا ہوگا کہ انعام یافتہ لوگوں کی دعا ئیں کیا رنگ رکھتی ہیں اور الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعائیں رکھتی ہیں۔یہ دعا قبول ہوتی ہے تو کیوں ہوتی ہے؟ وہ دعا قبول ہوتی ہے تو کیوں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ایسی الصّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جس پر ہر چند کہ شیطان بیٹھا ہوا ہے مگر ہم اس کے شکر گزار بندوں کی طرح اس پر قدم ماریں اور کبھی بھی شیطان ہمارے شکر پرحملہ نہ کر سکے کیونکہ وہی ہمارا دفاع