خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 575 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 575

خطبات طاہر جلد ۱۰ 575 خطبہ جمعہ ۵ر جولائی ۱۹۹۱ء ہے اور روحانی زندگی کی خاطر نہیں مانگی اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھے ہم عارضی زندگی عطا کردیں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پچاس سال ٹھہر وسوسال ٹھہر ولیکن بالآخر اس کے نتیجے میں تجھے معاف نہیں کریں گے کیونکہ جو گناہ تجھ سے سرزد ہو چکے ہیں آخری دم تک تو نے ان سے توبہ نہ کی تھی۔اس مضمون کی روشنی میں میرے ذہن پر ہمیشہ ہی اثر رہا کہ فرعون کے متعلق جستجو کروں کہ واقعہ اس سے کیا ہوا؟ چنانچہ کچھ عرصہ پہلے انگلستان میں ایک انسائیکلو پیڈیا ایسا میرے ہاتھ آیا جس میں تفصیل سے اس فرعون کا ذکر تھا یعنی Rameses the second ( رمسیس ثانی) اور مجھے یہ معلوم کر کے بڑا تعجب ہوا کہ وہ اس واقعہ کے بعد پچاس ساٹھ سال زندہ رہا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ نوے سال کی عمر اس نے پائی اور بہت چھوٹی عمر میں اس کا باپ فوت ہو گیا۔حضرت موسیٰ" کی زندگی کا اکثر حصہ اس کے باپ کے زمانے میں کٹا ہے جو اور مزاج کا تھا۔اس کی موت کے بعد یہ نوجوان تھا جب یہ بادشاہ بنا ہے اور چونکہ یہ حضرت موسیٰ سے پہلے سے ہی حسد کرتا تھا اور جانتا تھا کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا ہمارے دربار میں ہمارے بادشاہ کے گھر میں پل رہا ہے۔اس کی وجہ سے اس کے دل میں حسد تھا۔تو ذاتی انتقام کی خاطر بھی اس نے بہت زیادہ شدت اختیار کی۔جب یہ واقعہ ہوا ہوگا۔جس وقت بھی ہوا ہے اس وقت حضرت موسیٰ اپنی بڑی شر کو پہنچ چکے تھے اور یہ شخص ابھی بالکل نوجوان تھا۔اگر یہ اس وقت غرق ہو جاتا۔واقعہ ڈوب کر مر چکا ہوتا تو اس کی جو لاش ممی کی ہوئی ملتی وہ نو جوانی کی لاش ہونی چاہئے تھی۔اس کی جو لاش دریافت ہوئی ہے وہ ایک نوے سالہ انسان کی لاش ہے۔جس سے پتا چلتا ہے کہ لازماً اللہ تعالیٰ نے اس کو جب بدن کی نجات کا وعدہ فرمایا تو مراد تھا دنیاوی زندگی کی نجات کا وعدہ ہے۔خالی بدن کے رکھنے کا تو کوئی مطلب نہیں اور فرمایا کہ یہ اس لئے ہوگا کہ اس کے بعد تو جب بھی مرے گا تیری لاش ہمیشہ کے لئے عبرت کے نشان کے طور پر محفوظ رہے گی اور پھر ہم دنیا کو بتا ئیں گے کہ یہ وہ ظالم انسان تھا جس نے خدا سے ٹکر لی تھی۔ایک اور وجہ بھی اس کی لاش کو بچانے کی یہ نظر آتی ہے کہ اگر یہ ڈوب جاتا تو ممکن ہے پانی اترنے کے بعد اس کی لاش ڈھونڈھنے کی کوشش کی جاتی لیکن اس کا بہت کم امکان تھا کیونکہ سمندر میں ڈیلٹا کے پاس ایسی مچھلیاں ہوتی ہیں جو لاشوں کو کھا جاتی ہیں بڑی جلدی اور پھر لہریں بھی بہا کے کہیں