خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد ۱۰ 574 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۹۱ء وَقَدْ عَصَيْتَ اور تو اس سے پہلے ساری عمرنا فرمانی میں گزار چکا ہے۔وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ اور تو ہمیشہ فساد کر نے والوں میں سے رہا۔اس دعا کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے اس دعا کو بھی مشروط رنگ میں قبول کرلیا۔یہ جانتے ہوئے کہ اس وقت آخری لمحے میں اس دعا کا کوئی حق نہیں تھا۔اس کی ساری عمر بدیوں میں گزری۔ساری عمر بغاوت میں کئی۔اب جبکہ موت سر پر آکھڑی ہوئی بلکہ ڈوب رہا ہے ان لمحوں میں جو وہ دعا کرتا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں لیکن اس کے باوجود بعض دفعہ اس دعا میں ایک شدت ایسی اضطرار کی پیدا ہو جاتی ہے کہ خدا اس کو بھی قبول فرمالیتا ہے۔لیکن کسی حکمت کے تابع فرمایا ہم نے اس کو یہ جواب دیا آنان کیا اب اس وقت پھر فرماتا ہے۔فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ ببدنك (يونس:۹۳) چلیں ہم تیرے بدن کو نجات بخش دیں گے کیونکہ روح کے خوف سے تو تو نے تو بہ نہیں کی تھی۔بدن کا خوف در پیش ہے تو تو بہ کر رہا ہے اس لئے اس آخری تو بہ میں روح کو تو نہیں بچاؤں گا لیکن تیرے بدن کو ضرور بچالوں گا۔کس لئے ؟ اس لئے لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً تا کہ تو اپنے بعد میں آنے والوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے۔وَاِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عن ابتِنَا لَغَفِلُونَ اور دنیا میں اکثر ایسے لوگ ہیں جو ہمارے نشانات سے غافل ہیں۔اس آیت سے مختلف مفسرین نے مختلف نتائج نکالے ہیں۔اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ کے مضمون میں وہ یہ سمجھتے ہیں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا نے جب وہ غرق ہورہا تھا تو اس وقت کی یہ دعا تھی اس لئے خدا نے صرف بدن کو بچایا یعنی لاش کو بچایا اور فرعون کو نہیں بچایا۔وہ سمجھتے ہیں روح کے مقابل پر لاش سے مراد یہ ہے کہ زندہ نہ رکھا گیا اور اس کی دعا اس رنگ میں قبول ہوئی کہ اس کا بدن بعد میں باقی رہے گا۔میرے دل میں ہمیشہ اس تفسیر کے بارے میں تردد رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فراعین مصر کی لاشیں تو ویسے ہی محفوظ کی جاتی تھیں اس لئے خدا نے اس کی کیا دعاسنی۔وہ تو دستور تھا اہل مصر کا۔اپنے فرعون کی لاش کو ڈھونڈھ کر جب وہ پانی اترا ہوگا تو انہوں نے ضرور اس کی محی بنالی ہوگی۔اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ ہم تیرے بدن کو محفوظ رکھیں گے اس سے مراد اس کی زندگی سمیت بدن ہے اور یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ روح نہیں بچے گی۔یعنی جب وہ قیامت کے دن پیش ہوگا تو اس وقت گناہگاروں اور مجرموں کے طور پر ہی پیش ہو گا لیکن چونکہ اس نے عارضی زندگی کی خاطر دعا مانگی