خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 572 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 572

خطبات طاہر جلد ۱۰ 572 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۹۱ء مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین وہ اس وقت پورے اخلاص کے ساتھ اپنے دین کو سچا قرار دیتے ہوئے خدا سے یہ عرض کرتے ہیں لَبِنْ اَغْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّكِرِينَ اے خدا اگر اس بار اس مصیبت سے تو ہمیں نجات بخش دے تو ہم یقیناً تیرے شکر گزار بندے بن جائیں گے فَلَمَّا أَنجُهُمُ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (یونس :۲۴) پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو نجات بخش دیتا ہے تو وہ دنیا میں اسی طرح ناحق بغاوت کرتے پھرتے ہیں جس طرح پہلے کیا کرتے تھے اور خدا کے معصوم بندوں کو ستاتے ہیں۔يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَّتَاعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرُ جِعُكُمْ فَتُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ کے اے لوگو سن لو کہ تمہاری بغاوت بالآخر تمہارے ہی خلاف ہوگی مَتَاعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا اور یہ جو نفع کی باتیں کرتے ہو یہ تو عارضی دنیا کا نفع ہے بالآخر تم ہماری طرف لوٹ کر آنے والے ہواور فَنُنَبِئُكُم تب ہم تمہیں بتائیں گے کہ تمہارے اعمال کی کیا حقیقت تھی۔اس دعا کو الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ‎ کی دعا میں نے اس لئے کہا ہے کہ بالآخر یہ لوگ اپنے وعدوں سے مل جاتے ہیں اور ہٹ جاتے ہیں۔مگر مصیبت کے وقت کی یہ دعا بذات خود الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا نہیں اسی لئے میں نے کہا کہ یہ لپٹی ہوئی سی دعا ہے۔ہر وہ شخص جو نیک ہو یا بد ہو جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اسی قسم کی دعائیں کیا کرتا ہے لیکن بعض ان میں ایسے ہیں جو مغضوب بھی ہیں۔جو جھوٹے ہیں دھوکا دینے والے ہیں۔خدا سے وعدے کرتے ہیں اور پھر ان وعدوں سے ہٹ جاتے ہیں۔ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی بھی دعائیں قبول کر لیا کرتے ہیں۔پس یہاں یہ مضمون سمجھانے کی خاطر میں یہ دعا آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ ایسی دعا جو مصیبت کے وقت کی جائے بعض دفعہ وہ اس شدت کے ساتھ دل سے اٹھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر گواہی دیتا ہے کہ دین کے خلوص کے ساتھ وہ دعا کی گئی تھی۔واقعہ دل کی کیفیت یہی ہوتی ہے اور چونکہ وہ کیفیت ایسی ہے جس کو خدا تعالیٰ رد نہیں فرمایا کرتا اس لئے اس علم کے باوجود کہ یہ کیفیت بدل جائے گی اس وقتی کیفیت پر احسان فرماتے ہوئے اس دعا کو قبول کر لیتا ہے۔پس بعض لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بد بھی ہیں تب بھی ہماری دعائیں تو قبول ہو ہی جاتی ہیں ان کو دھو کے میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اتاریم فرمانے والا ہے کہ جب ایک انسان ایک اضطرار کی حالت