خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 571

خطبات طاہر جلد ۱۰ 571 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۹۱ء ابوجہل کی فطرت ہے یہ ہر زمانے میں دہرائی جاتی ہے۔بعض لوگ ہم نے دیکھے ہیں یہ کہتے ہیں کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق خدا آسمان سے اتر کر ہمیں کہے کہ یہ سچا ہے تب بھی ہم نہیں مانیں گے۔تو یہ جو فطرت ہے بغاوت کی یہ شیطانی فطرت ہے اور خدا آسمان سے خود اتر کر کہے کہ یہ سچا ہے تو ہم نہیں مانیں گے۔یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے جو شیطان کا مکالمہ گزر چکا ہے اس میں یہ بات کھل کر ثابت ہو چکی ہے۔شیطان جانتا تھا کہ خدا حق ہے اور شیطان جانتا تھا کہ خدا نے آدم کو حق قرار دیا ہے اور اس کے باوجود وہ دیکھو کیسی بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے اے خدا میں پھر بھی نہیں مانوں گا اور تو مجھے مہلت دے تاکہ قیامت تک میں ان لوگوں کے رستے پر بیٹھوں۔اس دعا سے یہ معاملہ بھی سمجھ آ گیا کہ شیطان کن لوگوں کے بھیس میں ان رستوں پر بیٹھا کرتا ہے۔ہر نبی کے دور میں جیسے آدم کے دور میں ایک شیطان نے خدا سے یہ مکالمہ کیا۔عملاً ایسے ابلیس پیدا ہوتے رہتے ہیں جو بعینہ یہی بات کہتے ہیں کہ اے خدا تو نے ہمیں بتا دیا تب بھی ہم نہیں مانیں گے اور آدم کی کہانی ہر دور میں دہرائی جاتی ہے۔پس ان مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعاؤں سے اور جو مکالمہ انہوں نے خدا سے کیا ہمارے لئے ہمیشہ کے لئے گہری نصیحتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے استفادے کی توفیق بخشے۔سورۃ یونس آیت ۲۲ تا ۲۴ کی ایک دعا ہے جو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی طرف منسوب ہے۔مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ‎ کا مضمون تو ہے لیکن یہ ذرا مضمون میں چھپا ہوا لیٹا ہوا مضمون ہے۔فرماتا ہے هُوَ الَّذِى يُسَيَّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (نس۱۳۰) وہی خدا ہے جو تمہیں خشکیوں اور سمندروں میں سفروں پر لے جاتا ہے اور سفر کی سہولتیں تمہیں عطا فرماتا ہے۔حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو۔وَجَرَيْنَ بهم رح طيبة اور وہ کشتیاں ٹھنڈی خوشگوار ہواؤں کے ساتھ ان کو لے کر سفر پر روانہ ہوتی ہیں وفَرِحُوا بِهَا اور وہ اس سے بہت خوش ہو جاتے ہیں جَاءَ تُهَارِيعٌ عَاصِفُ تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ہوا میں تیزی آجاتی ہے اور خنک ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ اور ہر طرف سے موج درموج طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ہر طرف سے موجیں ان کو گھیر لیتی ہیں۔وَظَنُّوا أَنَّهُمُ أحيط بِهِ اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہم ان موجوں کے گھیرے میں آچکے ہیں۔دَعَوُا اللهَ