خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 570
خطبات طاہر جلد ۱۰ 570 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۹۱ء اور پر حکمت کلام ہے چنانچہ یہ بات سن کر پھر خدا فرماتا ہے وَقَالَتْ أُولَهُمْ لِأُخْرَبُهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُو قُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ (الاعراف:۴۰) کہ دیکھ لیا تم نے تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں دی گئی ۔ تم سے کوئی غیر معمولی سلوک نہیں کیا جائے گا اب آؤ مل کر ہم اس عذاب کو چکھیں جو ہم نے بھی کمایا تھا اور جو تم نے بھی کمایا ہے۔ سورۃ الانفال آیت ۳۱ تا ۳۴ میں سے ایک آیت میں یہ دعا ہے : وَإِذْ قَالُوا اللَّهُم صلى الله إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا صلى الله بِعَذَابٍ أَلِيمٍ کہ بعض ایسے بد بخت لوگ ہیں حضرت محمد مصطفی کے مخالفین میں سے کیونکہ ان کا ذکر ہو رہا ہے جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے اللہ اگر واقعی محمد مصطفی حق پر ہیں اور تو نے ان کو حق عطا کیا ہے۔ یہ حق تیری طرف سے ہے فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ تو ہم پر پھر آسمان سے پتھروں کی بارش نازل فرمایا أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابِ اَلِی یا ہمیں بہت ہی دردناک عذاب دے۔ یہ دعا کفار مکہ کی دعا ہے اور روایات سے پتا چلتا ہے کہ ابو جہل نے یہ دعا کی تھی اور یہ کہا تھا کہ جس بندے کا میں انکار کر بیٹھا ہوں مجھے اتنا یقین ہے کہ یہ جھوٹا ہے کہ میں بڑی دلیری کے ساتھ تجھے مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اے خدا اگر تو نے اس کو سچ عطا کیا ہے تو پھر آسمان سے بے شک مجھ پر پتھروں کی بارش نازل فرما اور جو بھی درد ناک عذاب ہو سکتا ہے ہمیں پہنچے۔ ایک دفعہ ایک بدوی نے بنو عباس کے ایک خلیفہ کو یہ طعنہ دیا کہ تم لوگ جو قریش مکہ بن کر اپنی فضیلتوں کے قصے سناتے رہتے ہو۔ خدا نے ہم پر تمہارا حال کھول دیا ہے۔ تم بڑے ہی بے وقوف لوگ ہوا اور قرآن کریم نے تمہاری بے وقوفی پر ہمیشہ کے لئے گواہی دیدی ہے۔ اس نے تعجب سے پوچھا کہ کون سی گواہی ۔ اس نے کہا تم میں سے سب سے بڑا صاحب حکمت ابوالحکم ہی تھا نہ ۔ جس کو خدا نے بعد میں ابو جہل قرار دیا اور ابوالحکم کا حال یہ تھا کہ خدا سے اس نے یہ دعا کی کہ اے خدا اگر محمد مصطفی کو تو نے حق عطا فرمایا ہے تو پھر ہم پر پتھروں کی بارش نازل فرما۔ وہ بڑا پاگل آدمی تھا اس کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ اے خدا اگر حق ہے تو ہمیں توفیق عطا فرما کر ہم اس حق کو قبول کر لیں ۔ ۔ یہ کہنا چاہئے تھا کہ اگر یہ جھوٹا ہے تو ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کو نہ مانیں لیکن اگر حق ہے تو پھر ہم پر رحمتیں نازل فرما اور ہمیں توفیق عطا فرما۔ یہ دعا مانگ بیٹھا کہ اگر حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش نازل فرما۔ لیکن یہ جو