خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 565 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 565

خطبات طاہر جلد ۱۰ 565 خطبہ جمعہ ۵ر جولائی ۱۹۹۱ء (الاعراف: ۱۵) یہ شیطان کی دعا ہے اب اندازہ کریں کہ دعاؤں کا مضمون کتنا پھیلا ہوا ہے نعمتوں کی دعائیں کرنے والوں میں سر فہرست حضرت اقدس محمد مصطفی ملتے ہیں ، پھر فرشتے ہیں ، پھر خدا کے دیگر انبیاء اور ہر قسم کے نیک لوگ اور الْمَغْضُوبِ اور الائین کی دعا کرنے والوں میں سرفہرست شیطان ہے اس کی دعا بھی محفوظ فرمالی گئی اور بتایا گیا کہ تمہیں کس شیطان سے واسطہ ہے کونسی دعا تمہیں نہیں مانگنی چاہئے اور جس قسم کے شر سے تمہیں واسطہ پڑے گا اس کی کیفیت کیا ہے۔وہ اپنے لئے خدا سے کیا مانگ بیٹھا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک مدت کے لئے اس کی یہ دعا قبول فرما چکا ہے اس لئے ہمیں بہت ہی کھلے لفظوں میں متنبہ فرما دیا گیا ہے۔فرمایا شیطان نے کہا انظر إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ اے خدا مجھے اس دن تک مہلت دے دے جس دن سب لوگ اٹھا کر تیرے حضور حاضر کئے جائیں گے۔قَالَ إِنَّكَ مِنَ المُنظرِينَ (اعراف (۱۲) فرمایا! ہاں تجھے مہلت دی جاتی ہے تو بعض دفعہ بددعا بھی قبول ہو جاتی ہے اور یہ کہنا کہ ہم نے فلاں دعا مانگی اور قبول ہوگئی صرف یہی کافی نہیں ہے اگر بددعا قبول ہو تو بہت بڑی لعنت ہے۔اگر نیک دعائیں قبول ہوں تو پھر قربت کا نشان ہے نہ کہ بددعاؤں کا قبول ہو جانا اور بد دعاؤں کے قبول ہونے کی بھی بعض حکمتیں ہیں۔بہر حال خدا نے وہیں فرما دیا کہ ہاں تجھے چھٹی ہے۔قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا قْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (الاعراف:۱۷) اس نے کہا اچھا اگر مجھے اجازت ہے تو میں بتاتا ہوں کہ میں کیا کروں گا چونکہ تو نے مجھے گمراہ قرار دے دیا ہے اور ساتھ ہی اجازت دیدی ہے کہ میں تیرے بندوں کو بھٹکاؤں اس لئے لَا قُعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ میں صراط مستقیم پر بیٹھ جاؤں گا اور ہر وہ شخص جو صراط مستقیم سے گزر رہا ہوگا اس کو بھٹکانے کی کوشش کروں گا۔تو دیکھیں جب ہم دعا کرتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو یہ کافی نہیں ہے بھی اس کے بعد یہ تشریح آتی ہے۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ راستہ تو سیدھا ہے مگر اس سیدھے راستے پر بھٹکانے والے لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں، وسو سے پیدا کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے ہیں طرح طرح کے عذر تراش کر یہ سمجھانے والے بھی بیٹھے ہیں کہ یہ کر لو تو کوئی حرج نہیں وہ کر لو تو کوئی حرج نہیں۔اتنی سی بات سے کیا ہوتا ہے۔تو