خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 553
خطبات طاہر جلد ۱۰ 553 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء کہ یہ خناس تمام دنیا میں خدا کے خلاف اس کی ربوبیت کے خلاف اس کی الہیت اور ملکیت کے خلاف وسو سے پھیلا نا شروع کرے گا اور آج کا یہ وہ دور ہے جس دور میں سے ہم گزر رہے ہیں کیونکہ آج کی دنیا میں ایسے فلسفے پیدا ہو چکے ہیں جو خدا کو رب نہیں بناتے بلکہ دنیا کے طاقتور ملکوں کو رب بناتے ہیں اور ان سے احتیاج کا تصور اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ ہر حاجت کے وقت سب سے پہلے بڑی طاقتیں ذہن میں آتی ہیں کہ فلاں سے مدد مانگیں گے، فلاں سے مدد مانگیں گے۔مسلمان ممالک کو دیکھیں جب ضرورت پڑتی ہے وہ کشکول اٹھاتے ہیں، کبھی امریکہ کی طرف بھاگتے ہیں کبھی روس کی طرف بھاگتے ہیں۔کبھی چین کی طرف چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا خدا ہے۔پس عملی دنیا میں آج وہ زمانہ ہے جب کہ ہمارے اللہ بکھر چکے ہیں اور بہت سے بن چکے ہیں اور رب بھی بہت سے اور ہو چکے ہیں۔تو فرمایا کہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے، جبکہ تمہارے ایمان کی جڑیں کھوکھلی کرنے والی طاقتیں پیدا ہوں گی۔وہ تمہارے دل میں وسو سے پیدا کریں گی۔اور تم ان وسوسوں کے نتیجہ میں نہ خدا کو اپنارب سمجھو گے نہ اپنا بادشاہ سمجھو گے۔دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو بادشاہ سمجھنے لگ جاؤ گے اور نہ ان کو معبود سمجھو گے کیونکہ فی الحقیقت تمہارے دل میں تمہاری آرزوؤں کی عبادت ہورہی ہوگی۔فرمایا۔الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (الناس : ۶ تا ۷ ) یہ وہ شر پیدا کرنے والی طاقتیں ہیں جن سے ہم پناہ مانگتے ہیں ، جو بڑے لوگوں میں سے بھی ہیں اور چھوٹے لوگوں میں سے بھی ہیں۔بوژوا بھی ہیں اور Proletariat بھی ہیں Capitalist بھی ہیں اور سائنٹفک سوشلسٹ بھی ہیں الجن سے یہاں مراد بڑی بڑی طاقتیں اور عظیم الشان طاقتیں ہیں اور الناس سے مراد عوامی طاقتیں ہیں۔تو یہ دعا اس زمانہ کے اوپر ہر پہلو سے اطلاق پارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہے سونے سے پہلے ان دعاؤں کو پڑھتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پھونکتے تھے اور اپنے جسم پر ملتے تھے والے۔اس میں کوئی Superstition نہیں ہے۔دعا تو خداسنتا ہے جسم پر ملتے کیوں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ محبت کا اظہار ہے۔بعض دفعہ کسی پیارے کا کپڑا انسان کو مل جائے۔اسے انسان اپنے جسم پر ملتا ہے۔اپنے منہ سے لگاتا ہے اسے چومتا ہے۔پس میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جسم پر ملنا اس غرض سے نہیں تھا کہ آپ سمجھتے تھے کہ اگر جسم پر مل لی گئی تو میں بلاؤں سے بچ جاؤں گا آپ تو محفوظ مقام پر تھے۔آپ کو تو ہمیشہ