خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد ۱۰ 532 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء اطلاق پاتے ہیں کہ روحانی ہلاکت ہے جو آسمان سے انسان کو کاٹ رہی ہے اور دنیاوی ہلاکت ہے جو طرح طرح کے عذابوں کے ذریعے جو دنیا کی بدکاریوں کے نتیجے میں نازل ہورہے ہیں انسان کے جسمانی خاتمہ کا بھی سامان پیدا کیا جارہا ہے۔پس دونوں طرح کی ہلاکتیں دنیا کو درپیش ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تعلیم کشتی نوح میں دی ہے اگر چہ اس پر سو فیصد عمل کرنا بہت مشکل کام ہے اور شاذ ہی کوئی ایسا شخص ہو جو یہ کہہ سکے کہ میں نے اس ساری تعلیم کو اچھی طرح سمجھ لیا اور میں کامل یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر عمل پیرا ہوں لیکن اس تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنا ہی درحقیقت نجات کا موجب ہے۔بعض احمدی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم جب کشتی نوح کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو اس کشتی میں نہیں پاتے ہم کیا کریں؟ ہمیں تو اس کتاب کے مطالعہ سے خوف آتا ہے کیونکہ بعض ایسی ایسی بار یک باتیں ہیں اس میں بیان فرمائی گئی ہیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تب بھی میری جماعت میں سے نہیں۔اگر تم ویسا کرو گے تب بھی میری جماعت میں سے نہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں امن کے پیغام کے بجائے ہمارے دل سے ایک خوف کی آواز اٹھتی ہے اور ہمیں ڈراتی ہے کہ تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو اس کشتی میں سوار ہیں۔یہ واقعہ ہے کہ ایسے خیالات صرف ایک دو کے دل میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ ہر وہ شخص جو ضمیر کی آواز پر کان دھرتا ہے اس کے دل میں ایسے ہی خیالات پیدا ہوں گے۔میں اپنے تجربے سے بھی اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کتاب پڑھتے ہوئے بعض دفعہ انسان کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور انسان یہ سمجھتا ہے کہ ابھی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کا اہل نہیں ہوا لیکن دوسری طرف ایک اور پہلو بھی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنا خدا کی رضا کے بغیر ممکن نہیں ہے اور دعا ہی سے سہارا ملتا ہے اور جو شخص دعا کے ذریعہ کشتی نوح میں داخل ہونے کی التجا کرتار ہے اس کا ہر قدم اس امن کی کشتی کی طرف اٹھتار ہے گا اور اس دوران جس قدم پر بھی اس کو موت آئے وہ امن کی حالت میں مرے گا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے خوب اچھی طرح کھول کر بیان فرما دیا ہے۔ایک تمثیل میں آپ نے یہ بیان فرمایا کہ ایک شخص جس نے بہت گناہ کئے تھے اتنے گناہ کئے تھے اتنے گناہ کئے تھے کہ کوئی دنیا کا ایسا گناہ تصور میں نہیں آسکتا تھا جو اس سے