خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 524 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 524

خطبات طاہر جلد ۱۰ 524 خطبه جمعه ۲۱ جون ۱۹۹۱ء الله اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا۔ قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَی تو اس نے دعا کی جو میں بیان کروں گا۔ یہاں میں نے کہا تھا کہ آگے جا کر مضمون بدل جائے گا۔ ایک مضمون ہے عام جو سارے بنی نوع انسان میں مشترک ہے۔ ہر ایک کی ماں اسی طرح اسے جنم دیتی ہے لیکن ہر شخص احسان مند نہیں ہوا کرتا ۔ اب واپس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف مضمون لوٹ گیا ہے۔ ایک عام واقعہ بیان کر کے جو سب بنی نوع انسان میں مشترک ہے پھر الانسان بمعنی محمد رسول اللہ اس مضمون کو دوبارہ اٹھا لیا گیا اور یہ کہا گیا کہ جب وہ بلوغت کو پہنچا اور ۴۰ سال کی عمر کو پہنچا اور ۴۰ سال کی عمر آپ کی نبوت کی عمر تھی اس لئے ۴۰ سال کا لفظ استعمال ہوا ہے ورنہ ہر انسان تو ۴۰ سال کی عمر کو پہنچنے پر یہ بات نہیں کہا کرتا ۔ پس یقینا قطعی طور پر یہاں حضرت اقدس محمد صلى الله رسول اللہ ﷺہ مراد ہیں اور آپ کا نقشہ بیان فرمایا ہے کہ آپ نبوت پانے کے بعد کیا دعا ئیں کیا کرتے تھے۔ فرمایا قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ اے میرے رب ! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اس نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر کی اور اس نعمت کو تمام کر دیا۔ ( تمام کا مضمون لفظا ظاہر نہیں لیکن نبوت میں تمام کا لفظ شامل ہوتا ہے اس لئے تمام کا لفظ داخل کیا ) آیت کریمہ فرماتی ہے رَبِّ أَوْ زِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَی اے میرے رب ! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اس نعمت کا شکریہ ادا کرتا رہوں ۔ شکریہ ادا کر سکوں اس کی توفیق پاؤں جو تو نے مجھ پر فرمائی ۔ وَعَلَى وَالِدَی اور میرے والدین پر تو نے جو نعمت کی ہے اس کا بھی میں شکر ادا کروں ۔ کہ الله ب دیکھیں یہاں والدین سے آنحضرت ﷺ کے احسان کا یہاں ذکر نہیں فرمایا اس لئے ۔ پ کے والدین پہلے گزر چکے تھے۔ یہ مضمون لگتا ہے دو دھاگوں سے بنا ہوا ہے کبھی عام ہو جاتا ہے کبھی خاص ہو جاتا ہے ۔ عام ہو جاتا ہے تو تمام بنی نوع انسان پر پھیل جاتا ہے جب سمٹتا ہے تو الله حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں سمٹ آتا ہے۔ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے خدا ! مجھ پر تو نے جو اتنا بڑا احسان فرمایا یہ توفیق عطا فرما کر اس پر شکر کا حق ادا کر سکوں اور صرف اسی کا نہیں بلکہ اپنے والدین کی طرف سے بھی تیرا شکر ادا کروں۔ صاف ظاہر ہے کہ والدین گزر چکے ہیں اور ان کو پتا نہیں کہ کیا نعمت ان کو ملی ہے اور واقعہ آنحضرت ﷺ کے والدین گزر چکے تھے ان کو کیا پتا تھا کہ ان کی صلى الله