خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 520
خطبات طاہر جلد ۱۰ 520 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء کے بعد یہ دعا کیا کریں لیکن اس کے ساتھ ایک اور بھی کلمہ زائد فرما دیا گیا جو بہت ہی پر لطف کلمہ ہے وہ یہ ہے کہ وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ کہ ہم نے آخر خدا ہی کی طرف جانا ہے بہت گہرا مضمون ہے جو اس کلمے میں بیان فرمایا گیا ہے۔ایک یہ کہ سواریوں پر بیٹھتے ہوئے خصوصاً خطرناک سواریوں پر بیٹھتے ہوئے خدا کے مومن بندے دعا ئیں تو کرتے ہیں لیکن ڈرتے نہیں ہیں۔وہ دعا کرنے کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے خدا ! یہ تو عارضی سفر ہے۔اصل سفر تو ہمارا تیری طرف ہونا ہے۔ہم نے بالآ خر تجھ تک پہنچنا ہے اس لئے اگر تیری مرضی یہ ہو کہ یہ جہاز غرق ہو جائے ہم اپنے وطن واپس نہ بھی جاسکیں تو اصل وطن تو وہ ہے جہاں تو ہے۔جہاں تجھ سے جا کر ملنا ہے اس لئے ہم یقین رکھتے ہیں وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ہم تو یقینا اپنے رب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔اس کا ایک دلچسپ تجربہ مجھے بھی ہوا۔۱۹۶۵ء میں جب میں سری لنکا گیا تو جس جہاز پر میں سوار تھا میرے ساتھ سری لنکا کے ایک کیبنٹ منسٹر بھی تھے۔ہم سری لنکا پہنچنے لگے تو اس سے چند منٹ پہلے ایسا خوفناک طوفان آیا کہ میں نے اس سے پہلے جہاز میں کبھی ایسا خوفناک منظر نہیں دیکھا۔کہرام مچ گیا۔سارے جہاز میں چیخ و پکار اور دعائیں، کوئی بیوی بچوں کو یاد کر رہا تھا کوئی خدا کو یاد کر رہا تھا اور جہاز بے حد اونچا نیچا ہورہا تھا اور میں اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا۔مجھے یہ دعا یا تھی اور میں بالکل ایک ذرا بھی فکر میں مبتلا نہیں ہوا۔خیر خدا نے فضل کیا۔کچھ دیر کے بعد ہم اس طوفان سے گزر گئے۔جب نیچے اترنے لگے تو اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو۔میں نے کہا میں مسلمان ہوں۔کہتا ہے کہ اس جہاز میں اور بھی تو بہت سے مسلمان سفر کر رہے ہیں تم کون سے مسلمان ہو۔خیر میں اس کی بات سمجھ گیا۔میں نے اس کو بتایا۔کہتا ہے میں حیران ہوں کہ سارا جہاز ایک قیامت کا نمونہ دکھا رہا تھا اور تم آرام سے بیٹھے ہوئے تھے تمہیں کچھ بھی پتا نہیں۔میں نے کہا اس لئے کہ وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ ہم یہ چھوٹے چھوٹے سفر کرتے ہیں۔بعض منازل کو پیش نظر رکھ کر۔اللہ تعالیٰ ہمیں یاد کراتا ہے کہ اپنی آخری منزل نہ بھول جانا۔وہ اصل منزل ہے اور دائگی مقام ہے۔ہم نے لوٹ کر وہیں آنا ہے تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ آج چلے جائیں، کل جائیں، جانا تو وہیں ہے۔فرق کیا پڑتا ہے۔پس مومن کو ایسی دعا کے بعد کا یہ جملہ غیر معمولی تقویت دیتا ہے۔اول تو یہ کہ اس دعا کی