خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 519
خطبات طاہر جلد ۱۰ 519 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء كُنَّالَهُ مُقْرِنِينَ ہم ہر گز طاقت نہیں رکھتے تھے کہ اسے اپنے تابع فرمان کر سکتے وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اور یقیناً ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہ دعا بھی اس زمانے کے ساتھ خصوصیت سے تعلق رکھتی ہے۔کیونکہ پہلی سواریاں جو انسان کے لئے بنائی گئی تھیں یعنی جانوران میں اور موجودہ سواریوں میں بہت بڑا فرق پڑ چکا ہے۔یہ سواریاں غیر معمولی طور پر طاقتور ہیں اور ان کا تعلق بھی اسی دجال سے ہے جس کے متعلق میں ابھی دعا پڑھ چکا ہوں۔اس لئے گو یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ آگے پیچھے بھی دعا ئیں اسی لئے رکھی گئیں کہ یہ اسی زمانہ کی دعائیں ہیں کیونکہ صورت الگ الگ ہے لیکن خواہ کوئی اسے حسن اتفاق سمجھے خواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تقدیر سمجھے۔امر واقعہ یہی ہے کہ جہاں پہلی دعا کا ذکر ہے اور آخری زمانے کی بدیوں کا ذکر ہے وہاں اس کے معا بعد جو دوسری دعا ہمیں قرآن کریم میں ملتی ہے وہ یہی دعا ہے اس لئے میرا رجحان اسی طرف ہے کہ یہاں موجودہ زمانے کی سواریاں خصوصیت سے پیش نظر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ان سواریوں پر بیٹھا کرو تو یہ دعا کیا کرو کہ بظاہر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے قابو کر لی ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تیرے ہی قابو میں ہیں۔اگر تیرا قانون قدرت ساتھ نہ دے تو یہ سواریاں ہرگز ہمارے قابو نہیں آسکتیں اور واقعہ یہی ہے کہ موجودہ دور میں جب بھی سائنسدانوں نے تکبر کئے ہیں خصوصاً سواریوں کے معاملہ میں تو ہمیشہ ان کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔انگلستان میں ایک بہت بڑا جہاز بنایا گیا۔اتنا شاندار کہ کہتے تھے کہ کبھی ایسا جہاز نہ بنا۔اور شاید نہ آئندہ بن سکے اور بہت ہی فخر تھا انگلستان کو کہ ایسا مسافر جہاز جو انگلستان سے امریکہ تک سفر کرے گا پہلے کبھی اس کا تصور نہیں تھا۔ہر قسم کی سہولت تھی ، ہر قسم کے خطرات سے بچنے کا انتظام تھا اور بڑی شان اور تکبر کے ساتھ انہوں نے روانہ کیا اور وہ اپنے پہلے تجرباتی سفر میں ہی سمندر میں غرق ہو گیا اور بے شمار لوگ اس کے ساتھ غرق ہو گئے جو بڑی شان کے ساتھ اس پہلے تاریخی سفر میں شامل ہو رہے تھے۔جہازوں کا بھی اعتبار نہیں ہے۔اعتبار ہو بھی تو قانون قدرت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔جب طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو انسان کی بنائی ہوئی مشین ان کے سامنے بالکل ایک پر گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔جس طرح ایک چھوٹا سا خاک کا ذرہ ہو یا ایک تنکا ہواور وہ اڑتا پھرے ایسی حیثیت ہو جایا کرتی ہے اس لئے احمدیوں کو خصوصیت سے یادرکھنا چاہئے کہ ہر سواری پر سوار ہونے