خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 518
خطبات طاہر جلد ۱۰ 518 خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۹۱ء کی امت کا وہ دور جس میں بدیاں پھیلنا مقدر تھیں۔آپ آئے تھے رحمت اور علم پھیلانے کے لئے مگر اسی امت میں ایک ایسا دور بھی آنا تھا جبکہ ہر طرف سیئات نے پھیل جانا تھا تو کیسی اچھی دعا ہمارے لئے کی گئی ہے۔ابھی ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ عرش پر خدا کے فرشتے اس زمانہ کو یاد کر کے ہمارے لئے دعائیں کرتے تھے کہ اے خدا! اس دور میں دعاؤں کی مدد کے بغیر وہ بچ نہیں سکیں گے۔بہت بڑی ذمہ داریاں ان پر ہوں گی اور کمزور لوگ ہوں گے۔ان کے مقابل پر اتنی بڑی طاقتیں ظاہر ہوں گی کہ تو خود فرماتا ہے کہ ایسی طاقتیں کبھی دنیا میں جاری نہیں کی گئیں۔اس لئے ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ رحم کا سلوک فرما ان کو بدیوں سے بچانا۔پس یہاں جو ماں باپ اپنے بچوں کے متعلق اپنی بچیوں کے متعلق فکر مند رہتے ہیں اور مجھے سے پوچھتے ہیں کہ بتائیں کیا نسخہ ہم استعمال کریں وہاں اور نسخوں سے پہلے سب سے بڑ نسخہ میں دعا کا بتا تا ہوں۔اور دعا کس رنگ میں کرنی چاہئے یہ آپ کو قرآن کریم کی اس آیت نے بتا دیا۔اللہ تعالیٰ کے وہ فرشتے جن کے ذریعہ نظام روحانی جاری ہے۔جن کے کندھوں پر روحانی نظام چلانے کا بوجھ ہے ان کی دعا ایک بہت ہی معنی خیز دعا ہے گہری نظر رکھتے ہوئے انہوں نے یہ دعا کی ہے۔پس ہمیں بھی اس دعا میں شامل ہو جانا چاہئے اور جس طرح کہ میں نے اس کی تفصیل بتائی ہے اس کا پس منظر سکھایا ہے ان معنوں میں یہ دعا اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے کیا کریں۔ایک اور دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو سکھائی۔یہ سواری کی دعا ہے۔اِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَمَا كُنَّالَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (الزخرف :۱۵،۱۴) کہ وہ لوگ جب سوار ہوتے ہیں تو سوار ہونے پر خدا سے یہ دعا مانگتے ہیں فرمایا جب تم سواریوں پر چڑھ جایا کرو اور قرار پکڑ لیا کرو تب یہ کہا کرو شبحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هذا پاک ہے وہ ذات جس نے سواری کو ہمارے لئے مسخر فر ما دیا وَمَا كُنَّالَهُ مُقْرِنِينَ ہم تو اس لائق نہیں تھے کہ سواری کو اپنے تابع کرسکیں۔مُقْرِنین کا مطلب ہے لگام ڈال سکیں۔مسخر کرنا جیسے کسی چیز کو ہمیشہ کے لئے دائمی طور پر اپنا غلام بنالیا جائے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے اور وہ چیز مجال نہ رکھتی ہو کہ مالک کی مرضی کے خلاف کوئی بات کر سکے۔یہ مضمون ہے جو تسخیر کے تابع ہے اور اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا وھا