خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 515 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 515

خطبات طاہر جلد ۱۰ 515 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء حضرت محمد مصطفی عملے ہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے استغفار کا بھی اس میں ذکر ہے اور آپ کی رحمت جو تمام بنی نوع انسان پر پہنچی ہے زیادہ تر آپ کی دعاؤں کے ذریعہ پہنچی ہے کیونکہ براہ راست آپ کی تعلیم کے ذریعہ آپ کا فیض عام نہیں ہوا۔و عِلْمًا میں تعلیم کا ذکر ہے اور رَّحْمَةً میں آپ کی برکتوں کا ذکر ہے۔پس ایک ہی نبی جس کی تعلیم بھی تمام بنی نوع انسان کے لئے عام تھی اور جس کی رحمت بھی عام تھی وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے اگرچہ تعلیم تو سب جگہ نہیں پہنچ سکی اور آج بھی نہیں پہنچ سکی۔آج بھی جس ملک میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں اس ملک کے اکثر باشندے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اس تعلیم سے غافل ہیں جو تمام بنی نوع انسان کے لئے تھی لیکن آپ کی رحمت ضرور پہنچی ہے اور رحمت اگلوں کو بھی پہنچی ہے اور پچھلوں کو بھی پہنچی ہے اور تمام عالم کو پہنچی ہے۔اس مضمون کو سمجھنے کے لئے آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہماری طرف سے یہ محض دعویٰ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔آنحضور ﷺ کو مقصود کائنات بتایا گیا ہے اور چونکہ شریعت نے ترقی کرتے ہوئے بالاخر جس طرح ارتقا انسان تک پہنچا۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم تک پہنچنا تھا۔گویا اسلام میں شریعت کا ارتقاء ہے۔اس پہلو سے جو پہلے لوگ تھے ان سب کو جو تربیت دی گئی وہ اسی طرف قدم بڑھانے کی غرض سے تربیت دی گئی اور تمام دنیا میں جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت نازل ہوئی اور رحمت کے نزول ہوئے ان سب کو بالاخر آنحضرت ﷺ کی طرف سے پیدا کی جانے والی عالمی برادری کا جز بننے کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔پھر جس طرح درخت کو پھل لگتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی مراد کو پہنچ گیا لیکن پھل لگنے کے بعد تو اس کی خدمت نہیں کی جاتی۔درخت کی خدمت کو بیج ڈالتے وقت بلکہ بیج ڈالنے سے پہلے شروع کر دی جاتی ہے جب آپ مٹی کھودتے ہیں اس کو نرم کرتے ہیں، جب آپ کھاد کا انتظام کرتے ہیں اور پانی کا انتظام کرتے ہیں۔ابھی بیج بویا بھی نہیں تو یہ سب انتظام شروع ہیں۔پھر بیج بوتے ہیں، پھر وہ درخت بنتا ہے اور مسلسل اس کی نگہداشت جاری رہتی ہے۔یہاں تک کہ بالاخر وہ پھل پیدا کرنے لگ جاتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا فیض اگر زمانے میں بھی پہلوں کو پہنچا اور کائنات میں بھی ہر جگہ عام تھا تو یہ کوئی فرضی دعوی نہیں ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرما یالُوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاك (والد) کہ اے میرے بندے اگر تجھے پیدا کرنا