خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد ۱۰ 516 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء مقصود نہ ہوتا تو میں کائنات کو پیدا نہ کرتا کیونکہ اس کائنات کا پھل تو ہے۔اس کا مقصود تو ہے۔تجھ جیسا میں نے پیدا کرنا تھا بیچ میں دوسرے بھی پیدا ہو گئے اور درخت کے پھل کے لئے لکڑی بھی تو پیدا ہوتی ہے۔پتے بھی تو پیدا ہوتے ہیں اور ان کے مختلف فوائد بھی دنیا کو پہنچتے ہیں۔تو یہ وہ معنی ہے جن معنی میں میں سمجھتا ہوں کہ فرشتے خدا سے عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! تیری رحمت اور علم تو سب دنیا میں اب عام ہوچکے ہیں۔فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ اس لئے ہر اس شخص پر رحم فرما اس کی توبہ قبول فرما جو تیری طرف تو بہ سے جھکتا ہے اور اس کو آگ کے عذاب سے بچا۔وكنة یہاں يَوْمَذ کا معنی بھی سمجھ آجاتا ہے۔اس دعا میں فرشتے یہ عرض کرتے ہیں وَقِهِمُ السَّيَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّيَاتِ يَوْمَبِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ یہاں یوم سے مراد زمانہ ہے۔عام طور پر تو عقل میں یہی بات آنی چاہئے کہ جس زمانے میں بھی خدا کسی پر رحم کرے کسی کو بخش دے، وہ اس نے بہت رحم کیا۔یومئذ سے کیا مراد ہے؟ فرشتے یہی کہتے ہیں کہ آج تو جس کو بخش دے وہ مراد کو پہنچ گیا۔مراد یہ ہے کہ جو زمانہ محد مصطفی عملے میں بخشا جائے اس کی کیا ہی شان ہے؟ یہ وہ زمانہ ہے جو خدا سے رحمت طلب کرنے والا اور خدا کی طرف تو بہ کے ساتھ رجوع کرنے کا زمانہ ہے۔دوسرے اس آیت کے ذریعہ ہمیں رحمتہ یعنی تو نے رحم کیا ، کی ایک ایسی تشریح معلوم ہوئی جو اس سے پہلے معلوم نہیں تھی۔ہم دعا کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا (البقره: ۲۸۷) قرآن کریم کی یہ دعا ہے جو ہمیں سکھائی گئی وَاعْفُ عَنَّا ہم سے درگزر فرما وَ اغْفِرْ لَنَا اور ہمیں بخش دے وَارْحَمْنَا اور ہم پر رحم فرما عام دعا کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ رحم سے مراد یہ ہے کہ جس طرح فقیر کہتا ہے ہماری حالت زار ہے، بھوکے ہیں، ننگے ہیں، کوئی دے دے رحم فرمائے لیکن یہاں رحم کا معنی اس سے بہت زیادہ گہرا ہے۔چنانچہ ملائکہ اللہ نے اپنی دعا کے دوران آخر پر جا کر اس مضمون کو کھولا۔وہ عرض کرتے وَمَنْ تَقِ السَّيَاتِ يَوْمَيذِ فَقَدْ رَحِمْتَہ کہ اس زمانہ میں یعنی شریعت محمدیہ کے زمانہ میں جس کو تو بدیوں سے بچاوے اس پر تو رحم فرماتا ہے یعنی ترے رحم کا مطلب ہے کسی کو بدیوں سے بچانا اور خصوصاً زمانہ نبوی میں جو شخص بدیوں سے بچارہے کیونکہ سب سے بڑی آزمائشیں بدیوں کے لئے زمانہ نبوی میں مقدر تھیں۔وہی ہے جس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ تو نے