خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 513 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 513

خطبات طاہر جلد ۱۰ 513 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا (المومن (۸) کہ ہمارے بعض ایسے ملائک ہیں جو ہم نے پیدا کئے جو عرش کو سنبھالے ہوئے ہیں۔وَمَنْ حَوْلَهُ اور جو کچھ بھی اس کے اردگرد ہے۔يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِم وہ خدا کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ کرتے ہیں وَيُؤْمِنُوْنَ بِه اور وہ اس پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں۔وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا اور جو لوگ بھی ایمان لاتے ہیں ان کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔اس آیت کا اکثر مفسرین یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ گویا نعوذ بالله من ذالك آسمان پر کہیں عرش کوئی ایسا تخت ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے اور اس کو کچھ فرشتے کندھوں پر اٹھائے ہوتے ہیں اور یہ ان فرشتوں کی دعا ہے۔یہ ایک بالکل جاہلانہ تصور ہے۔اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تو ساری کائنات کو اٹھائے ہوئے ہے۔اس کو اٹھانے والا کون ہے۔اس لئے عرش سے مراد ہرگز کسی قسم کا کوئی جسمانی عرش نہیں۔عرش کے مختلف معانی ہیں۔قرآن کریم میں عرش کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے اور عرش سے نظام کا ئنات ہی مراد ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ہم نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اس کے بعد فرمایا۔ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف: ۵۵) پھر اللہ تعالیٰ نے عرش پر استویٰ کیا۔تو عرش سے مراد وہ ساری کائنات تھی اور اس کا نظام تھا جس کو خدا نے پیدا کیا اور پھر اس کو سنبھال لیا، اس کا انتظام چلایا۔پس وہ طاقتیں جو نظام کائنات کو چلانے والی طاقتیں ہیں اور نظام کائنات کی جب ہم بات کرتے ہیں تو صرف ظاہری نظام کا ئنات نہیں بلکہ روحانی نظام کا ئنات بھی ہے اور یہاں غالباً اسی کا ذکر ہے کہ وہ خدا کے پیدا کردہ فرشتے یا وہ طاقتیں جو روحانی نظام عالم کو چلانے کی ذمہ دار ہیں وہ خدا کی حمد کرتی ہیں، اس کی تسبیح کرتی ہیں اور پھر یہ عرض کرتی ہیں کہ اے خدا! مومنوں سے مغفرت کا سلوک فرما۔فرشتوں کی طرف زیادہ دھیان اس لئے جاتا ہے کہ یہاں اپنے لئے انہوں نے استغفار نہیں مانگی۔یہ بھی ممکن تھا اس آیت کا ترجمہ کہ خدا کے فرشتہ صفت انسان یہ دعا کرتے ہیں لیکن فرشتہ صفت انسانوں میں سب سے بڑھ کر تو محمد رسول اللہ تھے وہ پہلے اپنے لئے استغفار فرماتے تھے پھر مومنوں کے لئے استغفار فرماتے تھے۔چونکہ