خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 510

خطبات طاہر جلد ۱۰ 510 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء رفتہ وہ ملنے شروع ہوئے لیکن محض اہل و عیال ہی نہیں ملے۔مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ اور بہت سے ایسے خاندان مل گئے جو اپنے خاندان ہی کی طرح تھے اور یہ امر واقع ہے حضرت رسول اکرم ﷺ نے جب ہجرت فرمائی تو جتنے خاندان رشتہ دار پیچھے چھوڑے ان سے بہت بڑھ کر محبت کرنے والے خاندان اور رشتہ دار نصیب ہوئے اور روحانی طور پر اہل مدینہ نے اخوت کا حق ادا کر دیا۔کبھی ہجرت کرنے والوں کو اپنے خاندانوں میں وہ سکون نہیں ملا، ایسی محبت ان سے نہیں کی گئی جیسے مدینہ کے انصار نے ان سے محبت کی یہاں تک کہ بہت سے ان میں سے ایسے تھے جنہوں نے اپنی آدھی جائیداد آنے والے مہاجرین کو بانٹ دی اور اتنا جذبہ تھا اپنا سب کچھ فدا کرنے کا کہ ایک دفعہ ایک صحابی حضرت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے مال جائیداد ہر چیز تو تقسیم کر دی ہے مگر بیویاں میری ایک سے زائد ہیں۔میں چاہتا ہوں اگر اجازت ہو تو آدھیوں کو طلاق دے دوں اور یہ جو مہاجر آئے ہیں بعض ان میں سے اپنی بیویوں کو پیچھے چھوڑ آئے تھے میں ان کے ساتھ ان کی شادی کروادوں والی حیرت انگیز جذبہ تھا۔پس حضرت ایوب کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے جہاں ہجرت کی گئی وہاں کے لوگوں نے اسی طرح احسان کا سلوک کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ایسا ہو اور نہ یہ فقرہ عجیب سا لگتا ہے۔وَوَهَبْنَالَةَ أَهْلَلہ یہ تو ٹھیک ہے ہم نے اس کے اہل اس کو واپس کر دئیے۔دوبارہ عطا فرما دے۔مِثْلَهُم مَّعَهُم اس جیسے اور بھی بہت سے۔تو یہ ہجرت کا انعام تھا اور میں نے بھی دیکھا ہے پاکستان سے جب انگلستان آیا ہوں تو کثرت سے ایسے خاندان ہیں جو اس قدرمحبت کا گہرا تعلق رکھتے ہیں کہ بالکل یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے خاندان میں آگئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ فرق نہیں لگتا بلکہ کئی پہلوؤں سے زیادہ محبت اور شفقت کا اظہار کرنے والے خاندان ہیں۔تو جب میں یہ آیت پڑھتا ہوں ہمیشہ مجھے مدینہ کی بات بھی یاد آتی ہے اور اپنے سفر کے بعد اللہ کی رحمت بھی یاد آتی ہے۔لیکن جو خاص نکتہ غور کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ دعا بعض دفعہ بن مانگے محض درد کے اظہار کے نتیجہ میں قبول ہوتی ہے۔اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر گزرا ہے جس میں انہوں نے عرض کیا کہ رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير (القصص: ۲۵) اے میرے خدا میں مانگتا کچھ نہیں تو بہتر جانتا ہے کہ مجھے کس چیز کی حاجت ہے۔پس جو تو چاہے میں اسی کا فقیر