خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 508

خطبات طاہر جلد ۱۰ 508 خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۹۱ء راہوں پر چل کر خدا سے انعام پائے تھے اور خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر تفصیل سے قرآن کریم میں محفوظ فرما دیا کہ یہ وہ انعام یافتہ لوگ تھے۔یہ یہ کیا کرتے تھے اور اس اس طرح مجھ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور پھر میں اس طرح قبول فرماتا تھا اور ان پر مزید انعامات کی بارش نازل فرمایا کرتا تھا۔حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک دعا پہلے بھی گزر چکی ہے۔اب ایک اور دعا ہے جس کی ادا اس پہلی دعا سے کچھ مختلف ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةَ انِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابِ (ص:۴۲) فرمایا کہ میرے بندے ایوب کو بھی تو یاد کرو۔اِذْ نَادَی رَبَّةَ جب اس نے اپنے رب کو بڑے درد سے پکارا اور یہ کہا کہ مجھے شیطان نے بہت ہی تکلیف اور عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس دعا کی ادا کچھ مختلف اس رنگ میں ہے کہ یہ دعا سے بڑھ کر شکایت کا رنگ رکھتی ہے۔یہ نہیں کہا کہ اس لئے تو میری مددفرمایا یہ کر اور وہ کر بلکہ بے ساختہ درد کا اظہار ہے جیسے بسا اوقات کوئی بچہ اپنی بیماری کا بتاتا ہے کہ میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے اور آگے کچھ نہیں کہتا۔تو بعض دفعہ ان مانگی دعائیں جو محض درد کا اظہار ہوتی ہیں بہت گہرا اثر رکھتی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے معا بعد فرمایا اُرُكُضُ بِرِجُلِك ( ص : ۴۳) یہ بھی نہیں کہا کہ ہم نے دعا قبول کر لی کیونکہ دعا تو ایک بین بین سارنگ رکھتی تھی۔شکایت تھی یا بے ساختہ درد کا اظہار تھا۔فوراً معاً مخاطب ہوکر فرماتا ہے۔تو سوار ہو، ایک سواری پکڑ اور اپنی ایڑی سے اسے تیز بھگا۔هذَا مُخْتَسَلُ بَارِدٌ وَ شَرَابٌ اور دیکھو یہ جگہ کیسی اچھے پانیوں پر مشتمل جگہ ہے ،ٹھنڈی ہے اور بہت عمدہ نہانے کا پانی بھی اور پینے کا بھی میسر ہے۔دراصل اس میں ہجرت کی طرف اشارہ تھا اور بعد کے واقعات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ایوب کو جس شیطان نے تنگ کر رکھا تھا وہ اس زمانے کا کوئی بہت ہی بڑا غاصب اور ظالم انسان تھا۔حضرت ایوب کے متعلق کہانیاں تو بہت مشہور ہیں لیکن قرآنی بیان سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اگر چہ جسمانی بیماری بھی تھی مگر محض کوئی ایک تکلیف نہیں تھی بلکہ آپ کے دشمنوں نے ہر طرح سے آپ کی زندگی آپ پر اجیرن کر رکھی تھی۔آپ کے اموال لوٹ لئے گئے تھے، آپ کے جانوروں میں طرح طرح کی بیماریاں پھیلا دی گئی تھیں، آپ کے خاندان میں سے بعض لوگوں کو آپ سے منحرف اور بدظن کر دیا گیا تھا اور اتنے درد ناک حالات پیدا کئے گئے کہ روایات میں آتا ہے کہ