خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 503
خطبات طاہر جلد ۱۰ 503 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء دعا کی رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ اے خدا مجھے نسل دے مگر نیک نسل دے۔بدنسل کا میں متمنی اصل الله نہیں ہوں۔مجھ سے آئندہ نیک نسلیں جاری ہوں اور دیکھیں کتنی گہری دعا تھی کہ حضرت محمد مصطفی ملے بھی آپ ہی کی نسل میں پیدا ہوئے۔پس محض دعا کے لفظوں کی بات نہیں ہوا کرتی۔خدا کی نظر دعا کی گہرائی پر پڑتی ہے۔دل میں کتنی گہرائی سے اٹھی ہے۔کسی جذبے کے ساتھ اٹھی ہے۔کس درد کے ساتھ اٹھی ہے۔کس اخلاص اور ایثار کی روح کے ساتھ اٹھی ہے۔یہ ساری باتیں ہیں جود عا کو طاقت بخشتی ہیں اور پھر نیک اعمال دعا کو طاقت بخشتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کلمہ طیبہ خدا ہی کی طرف رفع کرتا ہے مگر نیک اعمال اس کو طاقت مہیا کرتے ہیں۔پمپ کر کر کے نیک اعمال اس کلمہ کو اوپر اٹھاتے ہیں تو اسی طرح دعاؤں کا حال ہے۔یہ ساری باتیں دل کے نیک اور نیک اعمال مل کر دعاؤں میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا کر دیتے ہیں اور قوموں کے مستقبل ان دعاؤں سے بنتے ہیں۔ہے۔پھر ایک دعا حضرت سلیمان کی ہے سورۃ ص آیت ۳۶ میں بیان ہوئی وَهَبْ لِي مُلْگا اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما ایک ایسا عظیم ملک عطا فرما، لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ منْ بَعْدِی کہ میرے بعد پھر کبھی کسی کو نصیب نہ ہو۔اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ یقینا تو ہی۔مہربانی کرنے والا ہے۔بہت ہی زیادہ پیار کا سلوک فرمانے والا ہے۔قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي اس دعا کے متعلق کئی علماء بخشیں اٹھاتے ہیں کہ ایسی دعا مناسب بھی ہے کہ نہیں۔درست ہے کہ نہیں کہ میرے بعد کسی کو ویسی سلطنت نہ ملے۔یہ تو بظاہر ایک خود غرضی کی دعا ہے۔لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہماری اولاد میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھ اور بڑھا چڑھا اور اس شان کو بڑھاتارہ۔حضرت سلیمان نے یہ کیسی دعا کی اور پھر دعا بھی ایسی جو بدعا بن کر بعد میں ظاہر ہوتی ہے چنانچہ حضرت سلیمان کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ آپ کے بعد نہ نسل میں نبوت رہی ، نہ اس رنگ میں بادشاہت رہی۔حضرت سلیمان کا دور بنی اسرائیل کی حکومت کا سب سے شاندار دور تھا۔آپ نے آنکھیں بند کیں تو فتنے شروع ہوئے اور سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی اور آپ کی نسل کے حصے میں چھوٹی سلطنت آئی لیکن فلسطین اسی کا حصہ تھا۔اسی کو جوڈا کہا جاتا ہے۔ایک شمالی سلطنت تھی جس میں بنی اسرائیل کے دس قبائل آباد تھے اور ایک جنوبی جس میں دو تھے۔ان میں حضرت سلیمان کا اپنا قبیلہ بھی تھا۔چنانچہ آپ کے بیٹے کے پاس بالآخر صرف وہی بادشاہت رہ گئی جو دو قبیلوں کی راجدھانی پر مشتمل تھی اور وہ دس