خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 502 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 502

خطبات طاہر جلد ۱۰ 502 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء صدموں کا دماغ پر بھی اثر تھا تو میں (یعنی بابا سندھی) ان کو دبایا کرتا تھا۔کہتے ہیں! وہ مجھ سے بھی کہتے تھے فلاں بی بی کو بلا کر لاؤ۔فلاں بی بی کو بلا کر لاؤ۔ہر دفعہ میں جواب دیتا تھا کہ میں کس کو بلا کر لاؤں اس کے کمرے میں بھی تالا پڑ گیا ہے۔میں کس کو بلا کے لاؤں اس کے کمرے میں بھی تالا پڑ گیا ہے۔بہت ہی دردناک منظر ہے لیکن خدا کی یہ شان خود ان کی بدنصیبی کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جیسا گوہر اپنے اندر پا کر اس کی قدر نہیں کی اور آپ کو مٹانے کی کوشش کی۔پس جو خدا کے پاک بندوں کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے بالآخر ضروری نہیں کہ ہمیشہ اسی وقت لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خدا یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان کو مٹا دیا جائے اور پھر ان کو کوئی بچا نہیں سکتا۔مرزا نظام دین کا ایک بیٹا زندہ رہا جن کا نام مرزا گل محمد ہے اور ان کی نسل میں اب تک احمدیت ہے اور خدا کی یہ شان ہے کہ ان کو اس لئے زندہ رکھا گیا کہ انہوں نے احمدی ہو جانا تھا۔کوئی شخص ایسا زندہ نہیں رہا جس نے احمدی نہیں ہونا تھا۔اسی کو زندہ رکھا گیا جس نے احمدی ہونا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے بیٹوں میں سے دو تھے۔ایک مرزا سلطان احمد۔ایک مرز افضل احمد۔اس وقت دونوں میں سے کوئی بھی آپ پر ایمان نہیں لایا تھا اسی کو زندہ رکھا گیا اور اسی کی نسل جاری رکھی گئی جس نے ایمان لانا تھا یعنی مرزا سلطان احمد اور مرز افضل احمد اسی طرح بے اولاد لا ولد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔بہت ہی تفصیل کے ساتھ میں نے جائزہ لیا ہے۔ہر ہر واقعہ میں ایک عظیم نشان پوشیدہ ہے۔ایک صاحب اولاد ہونے کی طاقت رکھتے تھے۔شادی کرنا چاہتے تھے لیکن دماغ میں ایسا دورہ پڑا کہ فقیر بن گئے اور فقیر بننے کے بعد خود اپنے آپ کو اولاد کی اہلیت سے ہمیشہ کے لئے محروم کر لیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بسا اوقات یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔کہتے تھے کہ ان کی حالت دیکھ کر رحم آتا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے وہ دیواروں سے سر ٹکرا ئیں گے۔کہا کرتے تھے میں نے اپنے اوپر کیا کر لیا ہے کیا ظلم کر بیٹھا ہوں۔کاش مجھ میں طاقت ہوتی اور میں شادی کرتا اور میری اولاد ہوتی لیکن خدا کی تقدیر کے نیچے تھے۔پس اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے آباء واجداد کی نسل کائی جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔معلوم ہوتا ہے حضرت ابراہیم کو پتا تھا مجھے تو یقین ہے کہ خدا نے الہاما خبر دی تھی کہ یہ واقعہ ہے تم جس جگہ سے رخصت ہورہے ہواب یہاں کوئی باقی نہیں بچے گا۔یہ ساری نسلیں ختم ہونے والی ہیں۔اس وقت حضرت ابراہیم نے