خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 501

خطبات طاہر جلد ۱۰ 501 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہو جائے گی۔وہ جتھے چھوٹے ہو جاتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں اور تاریخ کے صفحوں میں ملتے ہیں لیکن مستقبل میں پاک لوگوں کی نسلیں جاری رہتی ہیں۔یہ سنت انبیاء ہے لیکن سب سے زیادہ شان کے ساتھ یہ سنت حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں پوری ہوئی۔پس رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ کی دعا ایک بہت شاندار پس منظر رکھتی ہے اور ایک بہت عظیم الشان مستقبل رکھتی ہے۔ان معنوں میں اپنی اولاد کے لئے دعا کرنی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ابراہیم فرمایا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آگ ہی کے معاملہ میں نہیں بلکہ برادری کے قطع تعلقی کے معاملہ میں بھی خدا نے ایسا ہی سلوک فرمایا۔چنانچہ جب ساری برادری نے آپ کو چھوڑ دیا تو اس وقت آپ کو الہام ہوا۔ینقطع ابـآئـك ويبدء منك ( تذکره: ۳۹۷) کہ اے غلام احمد ! تیرے آباء واجداد کی نسل کاٹی گئی۔ويبدء منك اب تجھ سے یہ نسل جاری ہوگی۔یہ ایسا عظیم الشان الہام ہے اور ایسی عظیم الشان قوت کے ساتھ یہ سچا ثابت ہوا ہے کہ اس کی روشنی کے سامنے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔وہ ظالم اور احمق لوگ جو کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا کوئی ایک نشان دکھاؤ اگر ان کے اندر ذرا بھی انصاف کا مادہ ہو تو صرف یہی بہت کافی ہے۔ان پر ثابت کرنے کے لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوے میں بچے تھے۔خدان سے ہم کلام ہوتا تھا اور آپ کی تائید میں نشان ظاہر فرماتا تھا۔جب یہ الہام ہوا ہے جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے اس زمانے میں کم وبیش ۷۰ افراد خاندان آپ کے آباء واجداد کے تھے جو قادیان میں بستے تھے اور ان میں سے کوئی ایمان نہیں لایا اور یکے بعد دیگرے وہ مرتے چلے گئے اور ان کی نسلیں ختم ہوتی چلی گئیں۔قریبی رشتے دار بھی ، دور کے رشتے دار بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے ایک پرانے خادم تھے بابا سندھی۔وہ ایک دفعہ خدمت کے لئے ہمارے ساتھ ڈلہوزی بھی گئے۔بڑی عمر تھی لیکن پھر بھی جسم میں توانائی تھی۔ان سے بعض دفعہ ہم پرانی باتیں سنا کرتے تھے تو بڑے مزے سے وہ قصے سناتے تھے۔کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود کے مخالفین کی جو حویلی تھی وہاں یکے بعد دیگرے تالے ہی پڑتے چلے گئے۔پہلے وہ گھر بیواؤں سے بھر گیا پھر ان کے بچے مرنے شروع ہوئے۔رفتہ رفتہ وہ خالی ہو گئی۔کہتے ہیں مرزا گل محمد کے والد مرزا نظام دین صاحب آخری عمر میں بہت کمزور ہو گئے تھے۔