خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 498
خطبات طاہر جلد ۱۰ 498 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء اور اپنے خدا کو کہو کہ وہ عذاب لے آئے جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔یہ ہے پس منظر۔نہایت بے ہودہ طریق پر متکبر رنگ میں خدا کے عذاب کو چیلنج کیا گیا ہے اور حضرت لوط کے ساتھ بڑا تحقیر کا معاملہ کیا گیا ہے لیکن اس کے جواب میں آپ یہ دیکھیں کہ حضرت لوط نے عذاب کی دعا نہیں کی یہ عرض کیا۔رَبِّ انْصُرْنِى عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ اے میرے رب میں تو اب بھی صرف نصرت چاہتا ہوں۔مفسد قوم کے خلاف میری نصرت فرما کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ان کا فساد اصلاح کی حد سے بڑھ چکا ہے۔اس لئے ان پر عذاب آیا مگر حضرت لوط نے براہ راست قوم کے خلاف عذاب طلب نہیں کیا۔حضرت ابراھیم علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا سورۃ صفت آیت نمبر ۰ میں ہے اس میں عرض کرتے ہیں رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصّلِحِينَ اس سے پہلے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کو قوم نے جب آگ کا عذاب دینے کی کوشش کی۔بعض مفسرین کا خیال ہے کہ با قاعدہ آگ میں ڈال دیا گیا اور وہ آگ گلزار بن گئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے روحانی محاوروں کے طور پر بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دراصل ہر نبی کے لئے مخالفت کی ایک آگ بھڑکائی جاتی ہے۔اس آگ ہی میں سے وہ گلزار ظاہر ہوتا ہے جو ان کی مقبولیت کی صورت میں اور ان کی آخری فتح کی صورت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو انعام ملتا ہے۔تو حضرت ابراہیم کے ساتھ جس آگ کا ذکر ہے یہ تمثیلی زبان ہے اس کو ظاہر پر نہیں قبول کرنا چاہئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی لکھا ہے اور بڑی تحدی کے ساتھ لکھا ہے کہ اگر وہ ظاہری آگ بھی ہے تو ہمیں کامل یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاص سنت نے اس آگ سے حضرت ابراہیم کو بچالیا تھا۔گلزار بنے والی یہ باتیں تو مفسرین کے قصے ہیں۔قرآن کریم نے جہاں تک فرمایا ہے وہ بس اتنا ہی ہے اور اتنا ہی ہمارے لئے کافی ہے کہ وہ آگ تھی۔خواہ وہ ظاہر کی آگ تھی خواہ و مخفی آگ تھی۔معنوی طور پر آگ تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس آگ سے آپ کو بچالیا اور آگ جلانے والوں کو نا کام کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کو بھی ایک الہام ہوا۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔( تذکرہ صفحہ ۳۲۴) ظاہری طور پر بھی کیا یہ درست ہے؟ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کی بار بار کی ان کوششوں کو نا کام کر دیا کہ احمدیوں کو زندہ آگ میں جلائیں۔ابھی حال ہی میں پیچھے پاکستان میں الصلوة