خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 496

خطبات طاہر جلد ۱۰ 496 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء سپرد کر دئیے۔واپس آکر وہیں بیٹھ گئے اور چونکہ آپ کی عادت نہیں تھی کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائیں کسی سے مدد مانگیں۔یہ احسان کا سلوک کرنے کے بعد ان کی طبیعت دعا کی طرف مائل ہوئی اور معلوم ہوتا ہے اس احسان کے نتیجہ میں دل سے یہ دعا اٹھی ہے کیونکہ آپ اس دعا کے مضمون کو غور سے سنیں تو اس کے پیدا کرنے کے لئے کوئی محرک ہوا ہے۔چنانچہ وہ محرک یہ تھا کہ آپ نے بے یارو مددگار بچیوں پر ایک احسان کیا اور پھر خیال آیا کہ میں بھی تو خدا کے حضور بے یار و مددگار پڑا ہوں کیوں نہ خدا سے عرض کروں کہ میری مدد کرے۔چنانچہ یہ دعا بہت ہی درد ناک ہے اور بہت ہی دل پر اثر کرنے والی ہے۔ایک دفعہ انگلستان میں ایک بڑی تقریب میں جب میری تقریر ختم ہوئی تو اس کے بعد مجھ سے بعض ملنے والے آئے۔ان میں کسی ملک کی ایک شہزادی بھی تھی۔اس نے قرآن کریم کی بعض آیات سنیں تو دل پر بہت اثر ہوا تو مجھ سے اس نے کہا کہ سارے قرآن کریم میں سے کوئی ایک دعا جو آپ کو بہت پسند ہے وہ مجھے لکھ دیں میں اسے آئندہ اپنی زندگی کا وظیفہ بناؤں گی۔چنانچہ میں نے اس کو یہ دعا لکھ کر دی اور سمجھایا کہ کیوں مجھے یہ دعا پسند ہے۔اس دعا میں ہر چیز خدا پر چھوڑ دی گئی ہے۔کچھ نہیں مانگا گیا۔صرف یہ کہا گیا ہے کہ رَبِّ إِنِي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرًا خدا! میں محتاج ہوں۔تجھے پتہ ہے کہ میں کس کس چیز کا محتاج ہوں۔میں کیا کیا بتاؤں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دعا کو ایک اور بہت ہی پیارے رنگ میں یوں عرض کیا :۔وہ دے مجھ کو جواس دل میں بھرا ہے زبان چلتی نہیں شرم وحیا ہے ( در ثمین صفحہ :۔۔) زبان چلتی نہیں شرم وحیا ہے، میں کیا کیا بیان کروں ، میں تجھ سے کیا کیا مانگوں۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! جو کچھ تو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا فقیر ہوں۔میں نہیں بتاتا کیا مجھے چاہئے نہ مجھے حقیقت میں علم ہے۔چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد جو بھی احسانات کا سلسلہ ہے وہ اسی دعا کے نتیجہ میں ہے اور اس کی جڑیں اسی دعا میں ہیں۔معابعد اس گھر میں ایک واقعہ ہوا جس گھر کی وہ بچیاں تھیں ان دونوں بیٹیوں نے اپنے باپ کو یہ واقعہ سنایا کہ ایک بہت ہی نیک مرد اور اچھا تو انا مرد اس طرح بیٹھا ہوا اجنبی ہے۔اس نے نہ ہم سے کچھ پوچھا، نہ