خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 489
خطبات طاہر جلد ۱۰ 489 خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۹۱ء قرآنی دعاؤں کے سلسلہ میں حضرت سلیمان، حضرت موسی اور حضرت لوط علیہم السلام کی دعاؤں کا ذکر ( خطبه جمعه فرموده ۱۴ جون ۱۹۹۱ء بیت الا ول۔گوئٹے مالا ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج کا یہ خطبہ میں مسجد بیت الاول گوئٹے مالا سے دے رہا ہوں۔جیسا کہ احباب جماعت ومعلوم ہے کہ ایک لمبے عرصہ سے قرآنی دعاؤں کے مضمون پر خطبات کا سلسلہ جاری ہے۔صرف گزشتہ خطبہ میں استثناء کرنا پڑا کیونکہ یہ خطبہ ٹرینیڈاڈ Trinidad میں آیا اورٹرینیڈاڈ کی جماعت میں کوئی بھی اردو نہیں جانتا اس لئے جماعت کی خواہش یہ تھی کہ چونکہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہمیں موقعہ ملا ہے کہ ہم آپ سے براہ راست بات سن سکیں اس لئے ہماری خاطر اس دفعہ استثناء کر دیں اور ہمیں مخاطب کرتے ہوئے ہمارے مسائل کو پیش نظر رکھ کر خطبہ دیں۔چنانچہ ان کی اس خواہش کے احترام میں میں نے ایسا ہی کیا۔پس اس سلسلہ مضمون کا یہ خطبہ اسی طرح جاری ہے جس طرح پہلے تھا اور پیچ کا جو خطبہ تھا وہ وقفہ شمار ہونا چاہئے۔یہ دعا جو میں اب پڑھ کر سنانے لگا ہوں سورہ نمل کی آیت ۴۵ سے لی ہے۔اس میں ملکہ سبا جس کا نام بلقیس بیان کیا جاتا ہے اس نے یہ دعا کی کہ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَنَ اللهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہ اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آج سلیمان کے ساتھ اس کے رب پر ایمان لاتی ہوں۔اس سے پہلے جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمان کے