خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 45

خطبات طاہر جلد ۱۰ 45 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء کا دل درد سے بھرا ہوا ہے یعنی اس عالم اسلام کا جس کو اسلام سے محبت ہے جس کو انسانیت سے محبت ہے، جس کو بنی نوع انسان کے امن سے محبت ہے، جو انسانی قدروں کی بلندی چاہتا ہے اور کسی ایک قوم کی عصیتی فتح کے نتیجے میں وہ نہیں ہو سکتا اس عالم اسلام کی میں بات کر رہا ہوں۔اس عالم اسلام پر انتہائی درد کی کیفیت طاری ہے۔دن رات دل دکھے ہوئے ہیں۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ صدر صدام کے ہر فیصلے پر صاد کر رہے ہیں۔ہر گز اس کا یہ مطلب نہیں۔صدر صدام نے جو یہ فیصلہ کیا کہ اسرائیل پر وہ سکڈ میزائلز پھینکیں اس کے نتیجے میں نقصان تو اتنا معمولی ہوا ہے کہ ایک معمولی بس کے حادثہ میں بھی اس سے بہت زیادہ نقصان ہو جایا کرتا ہے۔زلزلے کے نتیجے میں اس سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ نقصان ہو جاتا ہے جو Terrorist آئر لینڈ سے آکر یہاں بم کے دھماکے کرتے ہیں ان کا نقصان اس سے بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔لیکن تمام دنیا اسرائیل پر اس حملے کے نتیجے میں Appal ہوگئی ہے، یہ الفاظ ہیں پرائم منسٹر آف بریٹن۔(Prime Minister of Britain) کے کہ ہم Appal ہو گئے ہیں اس قدر حیرت اور سکتے میں پڑ گئے ہیں اور اس قدر خوفناک تعجب انگیز تکلیف پہنچی ہے کہ لفظ نہیں ہیں اس کو بیان کرنے کے لئے تو یہ ہمدردیاں ہیں عالمی قوتوں کی اسرائیل کے ساتھ۔ایسے موقع پر ایک ایسا قدم اٹھانا کہ جس کے نتیجے میں عراقیوں کے لئے اور زیادہ تکلیف ہو اور اگر عراقیوں کو تکلیف پہنچے گی تو چونکہ اکثر مسلمان ہیں اور اکثر عراقی جنگ کے فیصلوں میں ذمہ دار اور شریک نہیں اس لئے دنیا کے ہر شریف انسان کو خواہ وہ مسلمان ہو یا نہ ہو اس تکلیف میں حصہ دار ہونا چاہئے۔پس جو تکلیف نہتے ، غریب شہریوں کو پہنچ رہی ہے جو پہلے ہی فاقوں کا شکار ہیں اس پر ان پر ظالمانہ بمباریاں ہو رہی ہیں اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کتنا شدید نقصان اب تک پہنچ چکا ہے ان پر تو کوئی Appal نہیں ہو رہا ہے لیکن اس واقعہ پر اس لئے Appal ہورہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل نے جب جوابی کارروائی کی جو مظالم اب تک عراقیوں پر ہو چکے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ مظالم ہوں گے۔پس دراصل اس Appal کے لفظ کے پیچھے یہ حکمت ہے اور دوسرا ایسے خطرات ہیں جو خود غرضانہ خطرات ہیں ان کو خطرہ یہ ہے کہ اگر اس کے نتیجے میں اسرائیل نے کوئی جوابی کارروائی کی اور عالم اسلام پھٹ گیا یعنی پھٹا تو پہلے ہوا ہے مزید پھٹ گیا اور کچھ مسلمان ممالک نے عراق کی تائید شروع کر دی تو ہمارے لئے اور مشکلات کھڑی ہو جائیں گی تو بہر حال جو اقدامات ایسے ہیں جن کے نتیجے میں مصیبتوں میں اضافہ ہورہا ہے، دنیا میں