خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد ۱۰ 485 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۹۱ء درست اور دوسرے کو غلط قرار دیتے ہیں۔ہم اس شخص سے کیوں معافی مانگیں جس نے ہمارے حقوق پر قبضہ کر لیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کی یہ تحریر ہمیشہ میرے کام آئی۔میں ان سے بار بار پوچھتا تھا کہ تمہیں یقین ہے کہ تم درست ہوا اور تمہار بھائی غلط۔وہ جواب دیتے یقیناً۔ہمیں یقین ہے۔تو میں ان سے کہتا کہ اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم پہلے جا کر اس سے رابطہ کرو کیونکہ جو امام تم نے چنا ہے۔جسے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے وہ تم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اگر تم درست ہو تو اپنے غلطی خوردہ بھائی کے پاس جاؤ اور اس سے معافی طلب کرو۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود سے منسوب شخص کیلئے اور کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔سوائے اپنے ان بھائیوں سے صلح کرلے سے جن سے وہ دور چلا گیا تھا۔اس سے بہتر اور کیا فارمولا ہو سکتا ہے؟ تو جب کبھی آپ کا ایسے احمدی سے واسطہ پڑے جو کسی بات پر اپنے بھائی سے ناراض ہو۔خواہ وہ درست ہو یا غلطی پر ، یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔اس پر یہی فارمولا استعمال کریں۔اس سے دریافت کریں کہ کیا تم صحیح ہو؟ اور اگر اس کا جواب اثبات میں ہو تو اسے بتا ئیں کہ حضرت مسیح موعود کیا فرماتے ہیں۔خود کو درست ثابت کرنے کیلئے تمہیں خود سے آگے بڑھنا ہے اور اپنے بھائی سے معافی مانگتی ہے۔یہ نہایت خوبصورت تعلیم ہے۔یہ ایک متحارب معاشرے کو جوڑ سکتی ہے اور ایک دفعہ اگر کوئی صحیح راستے پر ہونے کے باوجود اپنے بھائی سے معافی مانگے تو ناراض بھائیوں کو منانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔میرا مشاہدہ ہے کہ ناراضگی کے بعد صلح بعض اوقات زیادہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جاتی ہے۔ایسے لوگ گزشتہ ناراضگیوں کا سد باب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو خوش کرنے کیلئے اور زیادہ محبت سے پیش آنے لگتے ہیں۔آپس میں متحد ہونے کے حوالہ سے یہ ایک نصیحت میں آپ کو کرنی چاہتا ہوں اور جیسا کہ میں نے کئی بار وضاحت کی ہے۔اتحاد نہایت اہم چیز ہے۔یہ محض ایک نظریہ نہیں ہے۔یہ محض عقیدہ بھی نہیں ہے۔یہ تو زندگی کا حصہ ہے۔عملی قدم ہے۔اتحاد پر عملدرآمد کئے بغیر آپ خدا کی توحید پر ایمان نہیں لا سکتے۔پس آپس میں متحد ہوجائیں، اپنے بھائیوں اور بہنوں سے کوئی ایسی بات نہ کریں جو ان کی ناراضگی کا باعث ہو، اگر کوئی آپ