خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد ۱۰ 479 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۹۱ء وہ کیا پیغام تھا یہی میں آپ کو آج بتانا چاہتا ہوں۔یہ پیغام اتنا گہرا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اس کو نہ سمجھ سکے۔آنحضرت ﷺ نے آپ ہی اپنے متعدد خطبات میں اور روایات میں اس کی تشریح فرمائی ہے اور اس تمام پیغام کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ لا الہ الا اللہ صرف ایک عقیدہ نہیں ہے بلکہ تمام زندگی کا طرز عمل ہے کوئی بھی جو اس کے خلاف کرے گا یا اس کا عمل رشتوں اور تعلقات میں تفریق کرنے والا ہو گا جو رحمی رشتوں کو نقصان پہنچائے گا یا ہمسایوں کو تکلیف دے گا یا تمام انسانوں میں سے کسی کیلئے بھی تکلیف کا موجب بنے گا یا اس کا کوئی بھی عمل باہمی اتحاد کو نقصان پہنچائے گا تو ایسا شخص ہر گز لا الہ الا اللہ کو ماننے والا نہیں ہوسکتا۔یہ ہے وہ پیغام۔اسی طرح آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن اور رحیم کی تشریح اس طرح فرمائی۔رحم کے مادہ حروف ہیں۔رح۔م اس کا مطلب رحم بھی ہے اور رحیم بھی۔اور رحم تو اللہ تعالیٰ کے رحم کو کہتے ہیں جو کہ صفت رحمانیت اور رحیمیت کا ماخذ ہے اور رحم عورت کی بچہ دانی کو کہتے ہیں اس کا مادہ بھی یہی تین حروف ہے۔رحیم لیکن رحم کا مطلب بالکل اور ہے یعنی عورت کی بچہ دانی یعنی ماں کا پیٹ جہاں بچہ نشو ونما پاتا ہے۔یعنی عورت کا وہ عضو جہاں بچ نشو ونما پاتا ہے اس کو بھی رحم کہتے ہیں اور اس کا ماخذ بھی یہی تین حروف مادہ ہیں یعنی رح۔م۔تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لفظ رحمن اور رحم کا ماخذ ایک ہی ہے اور ایک عظیم الشان پیغام ہمیں دیا کہ جو کوئی بھی ماں سے تعلق رکھنے والے تعلقات کو توڑے گا تو وہ رحمن سے یعنی اپنے خدا سے تعلق توڑے گا۔بنیادی طور پر اگر آپ درخت کو اس کی جڑ سے کاٹ دیں تو آپ نے تمام درخت کاٹ دیا اگر رحم کے تعلق کوتو ڑا تو رحمن سے تعلق از خود ہی ٹوٹ جائے گا۔اب دیکھیں یہ تو حید ہی کا پیغام ہے اور واضح کرتا ہے کہ توحید کا آغاز گھر ہی سے ہوتا ہے۔خاندانوں میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ ایسا رویہ اپنا ئیں جس سے خاندانی تعلقات مضبوط ہوں اور گھر ایک صحت مند اور مکمل خاندان کی شکل اختیار کریں جس سے بنی نوع انسان میں امن وسلامتی قائم ہوگی۔جب تک گھروں کو مضبوط نہ کیا جائے اور خاندانی اقدار کی حفاظت نہ کی جائے یہ ناممکن ہے کہ ٹوٹے ہوئے گھروں کے لوگ انسانیت کو وحدانیت کے حصار میں لے آئیں۔چنانچہ یہ ہمارے