خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 469

خطبات طاہر جلد ۱۰ 469 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک اور چیز جو یہود کو تکلیف دیتی تھی وہ بھی انصاف کا ایک اور پہلو ہے حضرت سلیمان نے بہت عظیم الشان تعمیرات کرائیں۔آپ کو علم ہے کہ آپ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ آپ کو خدا نے ہواؤں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشی اور وہ سفر جو آپ سے پہلے ایک مہینے کی مشقت سے کیا جاتا تھا وہ صبح اور شام میں طے ہو جایا کرتا تھا تو حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے بہت علم عطا کیا ، بہت ہی عظیم الشان ایجادات کی توفیق بخشی اور بہت سی اصلاحات کی توفیق بخشی۔اس ضمن میں قوم کی تعمیر کا جو پروگرام تھا اس میں آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ ساری آبادی جو بالغ مرد ہیں ، جن میں کام کرنے کی طاقت ہے وہ بلا امتیاز اپنے وقت کا تیسرا حصہ الہی کا موں پر یا قومی کاموں پر خرچ کرے گویا کہ ایک قسم کا قومی وقف کا اعلان تھا اور تیسرے حصے سے پتا چلتا ہے کہ یہ روایت یا رسم ہمارے ہاں چلی آتی ہے کہ تیسرے حصے سے زیادہ خدا کو نہیں دینا یعنی خدا خود پسند نہیں فرما تا کہ تم اپنے بال بچوں کا حق مارلو بلکہ یہ اجازت دیتا ہے کہ تیسرے حصے تک اپنے مال کو خدا کی راہ میں قربان کرو تو یہ رسم کوئی نئی نہیں۔بہت پرانی چلی آرہی ہے۔حضرت سلیمان کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت کی بات سمجھائی کہ اسی طرح خدمتیں لو کہ جن لوگوں کو خدمت پر مقرر کروان کے وقت کے تین حصوں میں سے دو حصے ان کے ہوں گے اور ایک حصہ قوم کا ہوگا۔حضرت سلیمان علیہ السلام سے پہلے یہ رواج تھا کہ یہود کو اس خدمت سے مستغنی سمجھا جاتا تھا۔وہ سمجھتے تھے ہم حاکم قوم ہیں جس طرح ڈچ یہاں حکومت کرتے تھے تو خو د ویسے محنت کے کام نہیں کرتے تھے۔جیسے آپ لوگوں سے لیتے تھے یا افریقہ کے ان لوگوں سے لیتے تھے جن کو وہ پکڑ کر یہاں لانے والے تھے۔وہ آپ بادشاہ بن کر پھرتے تھے انگریز یہی سلوک ہندوستانیوں سے کیا کرتے تھے۔افریقنوں سے کیا کرتے تھے تو ابتداء سے یہی رواج چلا آرہا تھا کہ یہود چونکہ ایک فاتح قوم ہے اس لئے یہود خود محنت کے کام نہیں کریں گے اور جو قو میں مغلوب ہو چکی ہیں صرف ان سے ان کے وقت کا ۳ را حصہ لیا جائے گا۔لیکن حضرت سلیمان کا یہ عظیم الشان انصاف ہے کہ آپ نے پہلی مرتبہ اس قانون کو تبدیل کیا اور کہا کہ یہود بھی اسی طرح وقت پیش کریں گے جس طرح غیر تو میں پیش کریں گی اور اس ملک میں اپنے اور غیر کا کوئی فرق نہیں رہے گا۔انصاف چلے گا اور کامل انصاف چلے گا۔کتنا عظیم الشان نبی تھا۔کیسے انقلابی فیصلے کرنے والا تھا ایسا محسن اعظم! اور اس کا بدلہ یہود نے اس نا پاک طریق پر دیا کہ ان باتوں سے چڑ