خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 464 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 464

464 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء خطبات طاہر جلد ۱۰ سے رو رو کر دعائیں مانگنے کی اور گریہ وزاری کیا ضرورت تھی کہ اے اللہ ! ہمیں شکریہ کا طریقہ سکھا صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء عارف تھے، خدا کی حکمت کے راز سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ اگر خدا نے توفیق نہ دی تو ہم شکر کا حق بھی نہیں ادا کر سکیں گے۔پس حضرت سلیمان کے منہ سے یہ دعا بہت زیب دیتی ہے کیونکہ آپ پر خدا کے بے انتہاء احسانات تھے۔پس نہایت عاجزی کے ساتھ جھکتے ہوئے خدا کا خوف کھاتے ہوئے انہوں نے عرض کیا۔رَبِّ أَوْزِعْنِى أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَی اے میرے رب مجھے توفیق عطا فرما أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَک کہ میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَی اس شکریہ نعمت کا جو تو نے مجھ پر کی اور صرف اسی کا نہیں۔وَعَلَى وَالِدَيَّ اور اس نعمت کا بھی مجھ پر واجب ہے جو تو نے میرے والدین پر کی۔اب یادرکھیں اس دعا نے ہمیں ایک اور بہت گہرا حکمت کا موتی پکڑا دیا۔بچوں پر فرض ہے کہ اپنے والدین کا شکریہ بھی ادا کریں اور والدین پر جو خدا نے نعمتیں عطا کیں، والدین کی زندگی تھوڑی ہوئی اور وہ ان سب نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کر سکے تو یہ اولا د پر قرض ہو گیا اور وہ والدین بھی جو خدا کے نیک بندے تھے اور انہوں نے خدا کا شکر کرتے ہوئے زندگی گزاری ان کی اولا د کو بھی یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہم پر ہمارے ماں باپ کا احسان ہے ہم اس احسان کا صرف اس رنگ میں بدلہ اتار سکتے ہیں کہ جو نیک کام وہ کیا کرتے تھے ان نیک کاموں کو ہم ہیں۔جو خدا نے ان پر احسان کئے تھے ان احسانات کا شکریہ ہم ان کی طرف سے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کریں۔تو کتنا عظیم الشان نبی تھا حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام،کتنی گہری معرفت اور حکمت کی باتیں کرنے والے تھے۔آپ کی دعا ئیں بھی گہری حکمت پر مبنی تھیں۔پس شکر یہ اپنا ہی نہیں بلکہ اپنے والدین کا بھی ادا کرنے کا خیال آ گیا اور کہا وَ عَلَى وَالِدَيَّ اور اپنے والدین کا بھی شکریہ ادا کروں اور کس طرح شکریہ ادا کروں؟ زبان سے نہیں نہیں عرض کرتے ہیں وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَہ ایک ہی طریق ہے تیرا شکر یہ ادا کرنے کا کہ نیک اعمال بجالاؤں۔ایسے اعمال بجالا ؤں جو تجھے پسند آ جا ئیں۔پس شکر یہ ادا کرنے کا ایک اور طریق ہمیں سمجھا دیا کہ شکر یہ ادا اس لئے کیا جاتا ہے کہ دوسرا خوش ہوا اور اللہ تعالیٰ تو زبانی باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ تو نیک اعمال سے خوش ہوتا ہے۔پس