خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 463
خطبات طاہر جلد ۱۰ 463 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء خدا کا شکریہ کیسے ادا کریں گے۔اگر ہاتھ پاؤں عطا ہوئے اور دنیا میں اگر کوئی لولا لنگڑا نہ ہو اور اس کی خدمت کا آپ کو موقعہ نہ ملے تو کیسے خدا کا شکر یہ ادا کریں گے۔پس دنیا میں آزمائشوں کا جو نظام چل رہا ہے، اگر غور کیا جائے تو دراصل ایک ہی رستہ ہے جس رستے سے خدا کے شکر گزار بندے اپنے رب کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں اور یہ جو مضمون ہے یہ ہمیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے سکھایا۔آپ نے ہمیں معرفت کی یہ بات سمجھائی ہے کیونکہ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا۔یہ ایک حدیث قدسی ہے یعنی ایک حکایت کے رنگ میں ایک بیان ہے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی بندہ پیش ہوگا تو وہ اسے کہے گا کہ دیکھو میں بھوکا تھا اور بہت تکلیف میں تھا تو نے مجھے روٹی نہ کھلائی اور پھر کہے گا کہ میں بغیر کپڑوں کے تھا، میرے بدن پر گرمی سے بچنے کے لئے اور سردی سے بچنے کے لئے کچھ نہیں تھا تجھے تو فیق تھی تو نے میری کچھ خدمت نہ کی ،تو نے مجھے کپڑے نہ پہنائے۔میں بے چھت کے تھا میرا کوئی گھر نہیں تھا اور تجھ سے امید تھی کہ تو مجھے گھر دے گا، مجھے آرام پہنچائے گا لیکن تو نے میری کوئی خدمت نہ کی۔اس طرح خدا باتیں کر رہا ہوگا اور وہ بار بار احتجاج کرے گا کہ اے میرے مالک اے میرے خدا! تو تو سب کو دینے والا ہے تو نے ہی تو تن ڈھانکے ہیں تو کب بغیر کپڑے کا تھا، تو تو سب کو رزق دینے والا ہے، تو کب بھوکا تھا تو اللہ فرمائے گا دیکھ جب میرا بندہ نگا تھا اور نہ سردی سے بچ سکتا تھا نہ گرمی سے اس وقت میں ہی ننگا تھا تو اس وقت تو میری مدد کر سکتا تھا یعنی میرے بندے کی مدد کر سکتا تھا جب میرا کوئی غریب بندہ بھوکا تھا اور تو کھانا کھلا سکتا تھا مگر نہیں کھلایا تو گویا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں آپ دیکھ لیں اس کے ساتھ یہ بالکل مطابقت کھا رہا ہے آنحضرت ﷺ اس تمثیل کے ذریعے ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ تم اگر خدا کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو تو براہ راست تو ادا کر ہی نہیں سکتے۔جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے اس کے غریب بندوں پر احسان کرتے ہوئے اس میں سے کچھ ان کو دو تو اس رنگ میں تم گویا خدا کا شکر یہ ادا کر سکتے ہو۔جتنی زیادہ کسی کو نعمتیں عطا ہوں اتنی ہی زیادہ شکر یہ ادا کرنے کی ذمہ داری اس پر بڑھ جاتی ہے، اتنی ہی زیادہ اس کو دعا کرنی پڑے گی اور انبیاء کی دعاؤں نے ہمیں سکھا دیا کہ انبیاء جیسے بڑے مقام پر فائز لوگ بھی اپنی طاقت سے شکریہ ادا نہیں کر سکتے تھے۔اگر انبیاء کو خود یہ طاقت ہوتی کہ اللہ کا شکر یہ ادا کرسکیں تو خدا