خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 459
خطبات طاہر جلد ۱۰ 459 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصّلِحِينَ کہ اے میرے رب ! اور غنی مجھے توفیق عطا فرما۔مجھے اس بات کی طاقت بخش أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ کہ میں تیری نعمت کا شکر یہ ادا کر سکوں۔یہ سادہ سی دعا ہے اس کا پہلا حصہ یہ ہے کہ مجھے تو فیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر یہ ادا کرسکوں۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہم تو ہر چھوٹی سی نعمت ہو یا بڑی نعمت ہو اس پر شکریہ کہہ کر سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہو گیا تو پھر حضرت سلیمان کو کیا ضرورت تھی کہ خدا سے شکریے کا طریقہ بھی مانگیں اور توفیق بھی مانگیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ شکر یہ ادا کرنا صرف زبان سے شکر یہ ادا کرنا نہیں ہوا کرتا کوئی شخص آپ پر اتنا بڑا احسان کرے۔آپ کا کام کرنے کے لئے اتنی مشکل اٹھائے۔کوئی شخص ڈوب رہا ہے اس کی جان بچانے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالے اور دریا میں چھلانگ لگا دے اور بڑی مشکل سے ہاتھ پاؤں مار کے خود ڈوبتے ابھرتے اس شخص کی جان بچالے اور وہ باہر آ کے کہہ دے شکریہ! تو کیا شکر یہ ادا ہو جائے گا؟ یہ سوال ہے۔اس لئے یہ دعا ہمیں سکھا رہی ہے کہ تم یہ بیوقوفی نہ کیا کرو کہ زبانی خدا کو کہہ دیا اچھا شکریہ ! بہت آپ نے احسان فرمایا بس کافی ہوگئی۔شکریہ اگر ادا کرنا ہے تو خدا سے اس کی توفیق مانگو تو فیق اس چیز کی مانگی جاتی ہے جو مشکل ہو۔جس کے لئے جان کو جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہو۔پس انبیاء چونکہ شکریہ کا حق ادا کرنا چاہتے تھے ، ہر چند کہ اللہ کے شکریہ کا حق ادا نہیں ہوسکتا اور غالب والی بات ہی درست ہے کہ : جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا (دیوان غالب صفحه: ۶۵) کہ ہم خدا کو زیادہ سے زیادہ جو چیز پیش کر سکتے ہیں، اپنی جان دے سکتے ہیں نا۔اس سے بڑھ کر ہم کیا کر سکتے ہیں لیکن جان بھی خدا کو دے دیں تو وہ بھی تو اسی نے دی تھی۔اسی کی عطا کو اس کو واپس کریں گے نئی چیز کیا اپنے پاس سے گھر سے لائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ مصرعہ جو مجھے بہت پیارا لگتا ہے بار بار میں اسے پہلے بیان کر چکا ہوں۔بہت ہی اعلیٰ پائے کا ایک