خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 457
خطبات طاہر جلد ۱۰ 457 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء حضرت سلیمان کی دعا میں الہی انعامات پر اظہار تشکر آئندہ نسلوں کو خلیفہ وقت کے خطبات سے جوڑ دیں خطبه جمعه فرموده ۳۱ مئی ۱۹۹۱ء بمقام بیت الناصر۔پیرا مار بیبو ( سرینام ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ چند جمعوں سے قرآن کریم میں مذکور دعاؤں کا بیان چل رہا ہے اور میں جماعت کو اس طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ سورۃ فاتحہ میں جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ تو وہ رستہ جو نیک لوگوں کا رستہ ہے ، وہ رستہ جس پر وہ لوگ چلے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا اس رستے کی مشکلات پر قابو پانے کے لئے اس رستے کے خطرات سے بچنے کے لئے اور اس رستے پر چلتے ہوئے خدا کی رضا پانے کے لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ وہ دعائیں زندگی بھر مانگتے رہیں جو دعائیں خدا کے وہ پاک بندے مانگا کرتے تھے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ انعام یافتہ لوگ تھے۔اللہ نے ان پر انعام فرمائے تو جن کا رستہ مانگا ہے ان کی ادائیں بھی تو لینی پڑیں گی ان کے طریق بھی تو اختیار کرنے پڑیں گے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم رستہ انعام والوں کا مانگیں اور ادائیں الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی اختیار کر لیں۔اس لئے سب سے اہم بات جو مـنـعـم علیہ گروہ یعنی انعام یافتہ لوگوں کی ہمیں نظر آتی ہے۔وہ یہ ہے کہ ان کی زندگی کا ہر لمحہ دعا کے سہارے گزرتا تھا۔ہر مشکل کے وقت، ہر آسانی کے وقت، ہر خوشی اور ہر غم میں وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔