خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 456
خطبات طاہر جلد ۱۰ 456 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۹۱ء اور مسلا اور بے بسوں پر ظلم کیا تو پھر میں اس نعمت کی خلاف ورزی کر رہا ہوں گا یہ معنی ہیں اس کے۔وَادْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ اور اپنی رحمت کے صدقے ، اپنی رحمت کی عطا کے طور پر مجھے نیک بندوں میں شامل فرمالے۔یہ دعا اس وقت کے کام کی دعا ہے جب انسان کو خدا تعالیٰ بنی نوع انسان کے کسی ایک حصے پر کسی قسم کی فضیلت بخشے کسی قسم کا ان کے ساتھ معاملہ کرنے کی طاقت بخشے اور اس کے نیچے کئی قسم کے خدمتگار ہوں کئی لوگوں کے معاملات اس کے قبضہ قدرت میں ہوں ایسے وقت میں بھی انسان کو محض اپنی عقل پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ جس طرح حضرت سلیمان جو بہت ہی صاحب عقل تھے اور سب سے بہتر مقام پر فائز تھے کہ فیصلہ کرتے کہ کون مجرم ہے کون نہیں ہے۔کس کو سزا دینی ہے، کس کو نہیں دینی ہے لیکن اعلیٰ عقل کا سب سے بڑا تقاضا یہ تھا کہ وہ عاجزی کے ساتھ خدا سے دعا کرتے کہ اگر تو نے مجھے توفیق دی تو میں اس طاقت کا صحیح استعمال کر سکوں گا۔اگر تو نے توفیق نہ دی تو میں اپنی عقل کے باوجود اس طاقت کا صحیح استعمال نہیں کر سکوں گا۔خطرہ ہے کہ ایسے اعمال سرزد ہوں جن سے تو ناراض ہو اس لئے میری التجاء یہ ہے کہ خواہ کتنی ہی مجھے حکومت کیسا ہی غلبہ کیوں نہ عطا کر مجھے تو فیق عطا فرما کہ ہر حالت میں میرے اعمال تیری رضا کے مطابق ہوں اور طاقت کے نشے میں میں کوئی غلطی نہ کر بیٹھوں۔پس ہر موقع ہر محل کے مطابق ان لوگوں کی دعائیں قرآن کریم میں محفوظ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام نازل فرمائے اور جن کی راہوں پر چلنے کی ہم سورۃ فاتحہ میں دعا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ان راہوں پر خدا کی رضا کے مطابق ہمیشہ قدم مارتے رہیں خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا۔اس جمعہ کے بعد آئندہ جمعہ سے پہلے میں انشاء اللہ ایک لمبے سفر پر روانہ ہونے والا ہوں اور غالباً ڈیڑھ مہینہ یا اس کے لگ بھگ سفر پر رہوں گا۔تو دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ خیر وعافیت کے ساتھ ان اعلیٰ مقاصد کو پورا کرنے والا سفر ہو جن کی خاطر یہ سفر کیا جارہا ہے۔واپس آکر جلسہ بھی ہے اور میری واپسی اور جلسہ کے درمیان وقت بہت تھوڑا ہوگا تو اللہ تعالیٰ یہ بھی توفیق عطا فرمائے کہ جلسے کی ساری ذمہ داریاں بھی باحسن سرانجام دے سکوں۔( آمین )