خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 455
خطبات طاہر جلد ۱۰ 455 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَى (النمل: ۲۰) انہوں نے یہ دعا کی کہ اے خدا مجھے تو فیق عطا فرما أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَی میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر فرمائی وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا اور میں نیک اعمال بجالاؤں ترضيه جن سے تو راضی ہو۔وَاَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ اور مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے صالح بندوں کے گروہ میں داخل فرمالے۔حضرت سلیمان کی یہ دعا اس موقع پر بیان ہوئی ہے جب وہ اپنے لشکر سمیت وادی نملہ میں داخل ہوئے اور عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک چیونٹی تھی جس نے حضرت سلیمان کو دیکھ کر اپنی باقی چیونٹی بہنوں کو متنبہ کیا کہ یہ ایک بہت بڑا جابر بادشاہ آ گیا ہے اور بہت بڑی فوج لے کر آیا ہے۔اگر اس سے بچنا ہے تو بھاگ کر اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ورنہ اس لشکر کے پاؤں تلے تم روندی جاؤ گی۔یہ بات حضرت سلیمان نے سمجھ لی جن کو علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ ظاہری طور پر مَنْطِقَ الطَّيْرِ عطا ہوئی تھی یعنی پرندوں کی بولی ظاہر میں بھی عطا ہوئی تھی اور دنیا کے ہر قسم کے پرندوں کی زبان وہ سمجھتے تھے مگر سوال یہ ہے کہ یہ تو چیونٹی تھی مَنْطِقَ الطَّيْرِ میں چیونٹی بے چاری کہاں سے داخل ہوگئی۔اس لئے الشَّمْلِ سے مراد چیونٹی لینا یہ درست نہیں ہے۔نَمْلَةٌ سے اصل میں جو ایک قوم کا نام تھا اور حضرت سلیمان جب لشکر کشی کر رہے تھے تو ایک ایسی قوم پر سے گزرے جس قوم کے ایک فرد نے اپنی قوم کو متنبہ کیا کہ اپنی اپنی پناہ گاہوں میں چھپ جاؤ اور غائب ہو جاؤ۔معلوم ہوتا ہے وہ پہاڑی علاقہ تھا یا ایسی جگہیں تھیں جہاں غاروں میں چھپا جاسکتا تھا۔چنانچہ بجائے اس کے کہ وہ قوم ایک لشکر کے سامنے آتی اور اس کے نتیجہ میں اس کو خطرات درپیش ہوتے تو مشورہ دینے والے نے یہ مشورہ دیا۔حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھا دی کہ اس طرح یہ تجھ سے خوف کھارہے ہیں اس پر انہوں نے عرض کی۔ربِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ کہ اے خدا میں دنیا کے بادشاہوں جیسا تو بادشاہ نہیں ہوں تو نے مجھ پر ایک عظیم الشان نعمت کی اور میرے والدین پر بھی ویسی ہی نعمت فرمائی۔مجھے توفیق عطا فرما کہ میں نیک اعمال کروں ایسے نیک اعمال جن سے تو راضی ہو۔اگر عام بادشاہوں کی طرح میں نے اپنی فتوحات کے نتیجے میں یا لشکر کشی کے دوران کمزوروں کو کچلا