خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 451 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 451

خطبات طاہر جلد ۱۰ 451 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۹۱ء اور میری زبان بھی نہیں کھلتی۔کہا جاتا ہے حضرت موسیٰ ہکلا کر بولتے تھے فَأَرْسِلُ إِلى هُرُونَ اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ہاروں کی طرف وحی بھیج دے اب یہ عجیب دلچسپ دعا ہے۔عاجزی بھی ہے، سادگی بھی کیسی ہے پیاری کہ اللہ تعالیٰ کو بتارہے ہیں کہ ان باتوں کو سوچ کر میں نے اندازہ لگایا ہے کہ زیادہ مناسب ہوگا کہ ہارون کو نبی بنایا جائے اور مزید اصل بات آخر پر نکلی ہے۔وَلَهُمْ عَلَى ذَنْبٌ فَأَخَافُ اَنْ يَقْتُلُونِ مشکل یہ ہے کہ مجھ پر ایک گناہ ہے جس کے لئے اس قوم کو میں جوابدہ ہوں اور غلطی سے مجھ سے ان کا ایک آدمی مر گیا تھا اب اگر عام حالات میں نبی کو جھٹلا ئیں تو وہ تو ہے ہی جھٹلا نا لیکن اگر جرم بھی ہو اور پتہ ہو کہ نبی نہیں ہے یہ جھوٹا ہے۔پھر تو بڑھ چڑھ کر زیادہ غصے کے ساتھ پہلے نقصان کا بدلہ اتاریں گے اور پہلے گناہ کی جزا دیں گے۔تو یہ تھا اصل قصہ جس کی وجہ سے اپنے آپ کو بیچ میں سے نکال ہی دیا کہ اے اللہ ان سب حالات میں بہتر یہی ہے کہ تو موسیٰ کی بجائے ہارون کو نبی بنادے قَالَ كَلَّا فَاذْهَبَا بِايْتِنَا إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ (الشعراء:۱۲) که خبر دار موسیٰ ضرور جاؤ لیکن تم دونوں جاؤ۔اب دعا قبول بھی فرمانی اور وہ جو خوف تھا وہ بھی دور کر دیا۔گلا میں ہلاکت کا ڈرانا نہیں بلکہ امید کو زیادہ یقینی طور پر پیش کرنا ہے۔گلا سے مراد یہ ہے کہ جو باتیں تو سوچ رہا ہے۔تیرے تو ہمات ہیں ان میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔ہو کیسے سکتا ہے کہ خدا کے تم نمائندہ ہو اور خدا کی مرضی کے سوا تم پر ہاتھ ڈال بیٹھے۔فَاذْهَبَا تم دونوں جاؤ بِايْتِنَا ہمارے نشانات لے کر انا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ میں تمہارے ساتھ سننے والا ہوں۔اس آیت سے اور اس دعا کے جواب سے پتا چلتا ہے کہ ساتھ ہی حضرت موسیٰ کو کچھ قبولیت کی خوشخبری بھی دیدی گئی تھی۔کیونکہ تثنیہ سے خطاب معا جمع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔فرمایا تم دونوں جاؤ ہمارے نشان لے کر۔إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ میں تمہارے ساتھ کھڑا تمہاری التجاؤں کوسن رہا ہوں گا۔پس وہ جو ساحروں کی دعا تھی اس کے سنے کی خوشخبری بھی اس آیت میں پہلے کلام میں حضرت موسیٰ کو دیدی گئی تھی کہ تم ڈرتے کس بات سے ہو تم آگے بڑھو گے۔ایک سے دو میں نے تمہیں بنایا ہے۔تم دو بھی نہیں رہو گے۔دو سے تین چار، ایک قوم بنتے چلے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کھڑا تمہاری التجاؤں کوسن رہا ہوگا۔وہ کون ہو سکتا ہے جو تم پر ہاتھ ڈالے۔فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الشعراء: ۱۷) اور فرعون کے پاس جاؤ اور دونوں اس سے یہ کہو کہ ہم خدا کا رسول